صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 266
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۶۶ ۶۴ - کتاب المغازی قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَلَمَّا قَامَ ساتھ ایک امین شخص ہی بھیجوں گا جو بڑا ہی امین قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہو گا۔یہ سن کر رسول اللہ صلی ایم کے صحابہ سر اٹھا کر آپ کی طرف دیکھنے لگے۔آپ نے فرمایا: ابو عبیدہ بن جراح ! اٹھو کھڑے ہو جاؤ۔جب وہ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ هَذَا أَمِيْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ۔اطرافه ٣٧٤٥، ٤٣٨١، ٧٢٥٤ - اس امت کا امین ہے۔٤٣٨١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۳۸۱ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بن جعفر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ کیا۔انہوں نے کہا: میں نے ابو اسحاق سے سنا۔بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے صلہ بن زفر سے، صلہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: قَالَ جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ نجران والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ابْعَثْ اور انہوں نے کہا: ہمارے پاس ایک امین شخص لَنَا رَجُلًا أَمِيْنَا فَقَالَ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ بھیجیں۔آپ نے فرمایا: میں تمہارے پاس ایک ایسا رَجُلًا أَمِيْنَا حَقَّ أَمِيْنِ فَاسْتَشْرَفَ لَهُ شخص بھیجوں گا جو پکا دیانت دار ہو گا۔اس پر لوگ النَّاسُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاح سر اُٹھا کر آپ کی طرف دیکھنے لگے اور آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو بھیجا۔اطرافه ٣٧٤٥، ٤٣٨٠، ٧٢٥٤۔٤٣٨٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۴۳۸۲ ہم سے ابو الولید نے بیان کیا۔شعبہ نے : شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ہمیں خالد ( حذاء) سے، خالد نے ابو قلابہ سے، أَنَسِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو قلابہ نے حضرت انس سے، حضرت انس نے قَالَ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِيْنٌ وَأَمِيْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ في صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ آپ نے فرمایا: ہر ایک امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ۔اطرافة ٣٧٤٤ ، ٧٢٥٥ -