صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 263
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی مَا أُرِيتُ وَهَذَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ میں تمہیں یہ بھی ہر گز نہ دوں اور میں تمہیں وہی شخص سَيُجِيْبُكَ عَنِّي فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى سمجھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے اور یہ ثابت بن قیس ہیں۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافة ،۳٦٢٠ ، ٤۳۷۳ ، ٧٠٣٣، ٧٤٦١- میری طرف سے یہ تمہیں جواب دیں گے۔یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوٹ گئے۔٤٣٧٩: قَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۳۷۹ عبید اللہ بن عبد اللہ کہتے تھے : میں نے سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاس عَنْ رُؤْيَا حضرت عبد اللہ بن عباس سے رسول اللہ صل اللی کم کی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي اس رویا کی بابت پوچھا جس کا آپ نے ذکر کیا ذَكَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ ذُكِرَ لِي أَنَّ تھا۔حضرت ابن عباس نے کہا: مجھ سے ذکر کیا گیا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اسی اثناء میں میں دیکھتا ہوں بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُرِيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَفُظِعْتُهُمَا ڈالے گئے ہیں۔انہیں دیکھ کر میں گھبرا گیا اور میں وَكَرِهْتُهُمَا فَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا نے انہیں ناپسند کیا۔مجھے حکم ہوا کہ ان پر پھونک فَطَارًا فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ مارو۔میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ اُڑ گئے۔فَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ میں نے ان کی تعبیر یہ سمجھی کہ دو جھوٹے شخص الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ وَالْآخَرُ ظاہر ہوں گے۔عبید اللہ نے کہا: (ان میں سے) مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ۔اطرافة: ٣٦٢١، ٤٣٧٤، ٤٣٧٥، ۷۰۳٤، ۷۳۷ - ایک (وہ) عنسی ہے جس کو فیروز نے یمن میں مارڈالا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔تشریح: قِصَّةُ الْأَسْوَدِ الْعَنُسِي: اسود عنسی کا نام عبلہ بن کعب ہے۔منی اس کے قبیلہ کا نام ہے۔دو الخمار کے لقب سے مشہور تھا۔خمار کے معنی نقاب کے ہیں۔وہ چہرہ نقاب سے ڈھانکتا تھا۔یہ صنعاء کا باشندہ تھا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۱۷،۱۱۶) جس نے مسلیمہ کی طرح نبوت کا دعویٰ کیا اور فتنہ ارتداد کے وقت علم بغاوت بلند کیا۔اس کی تفصیل اپنے موقع پر آئے گی۔الروض الانف شرح ابن ہشام میں ہے کہ عنسی کا