صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 262 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 262

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۶۲ بَابِ ۷۱: قِصَّةُ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيِّ اسود عنسی کا قصہ تَحْتَهُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ كُرَيْزِ وَهِيَ أُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٧٨: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۴۳۷۸ سعید بن محمد جرمی نے ہمیں بتایا۔الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ باپ ابراہیم بن سعد) نے صالح (بن کیسان) عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيْطٍ وَكَانَ فِي مَوْضَعَ سے، صالح نے ابن عبیدہ بن نشیط سے روایت کی آخَرَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ اور ایک دوسری جگہ ان کا نام عبد اللہ بیان ہوا عَبْدِ اللهِ بْن عُتْبَةَ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ ہے کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے کہا: ہمیں مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ یہ خبر پہنچی کہ مسیلمہ کذاب مدینہ میں آیا ہے اور حارث بن کریز) کی بیٹی (کیسہ) کے گھر میں اُترا فَنَزَلَ فِي دَارِ بِنْتِ الْحَارِثِ وَكَانَ ہے اور حارث بن کریز کی بیٹی اس کی بیوی تھی اور وہ عبد اللہ بن عامر کی ماں تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ حضرت ثابت بن قیس بن شماس بھی تھے اور یہ وہ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ شخص ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب خَطِيبُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہلاتے تھے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضِيْبٌ فَوَقَفَ عَلَيْهِ آپ مسیلمہ کے سامنے ٹھہر گئے اور اس سے فَكَلَّمَهُ فَقَالَ لَهُ مُسَيْلِمَةُ إِنْ شِئْتَ گفتگو کی۔مسیلمہ نے آپ کی بات سن کر آپ خَلَّيْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْأَمْرِ ثُمَّ جَعَلْتَهُ سے کہا: آپ چاہیں حکومت سے متعلق ہمارے لَنَا بَعْدَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ در میان دخل نہ دیں اور آپ اپنے بعد یہ امر وَسَلَّمَ لَوْ سَأَلْتَنِي هَذَا الْقَضِيْبَ مَا ہمارے لئے ہی کر دیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أَعْطَيْتُكَهُ وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُريتُ فِيْهِ یہ سن کر فرمایا: اگر تم مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگو تو