صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 261
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۶۱ ۶۴ - کتاب المغازی پانچویں روایت ( نمبر ۴۳۷۶) ابو رجاء عطاردی کی صلت بن محمد بن عبد الرحمن خار کی سے مروی ہے۔صلت کی کنیت ابو ہمام ہے۔یہ ثقہ راوی ہیں۔عطارد قبیلے کا نام ہے جو بنو تمیم کی شاخ تھی۔امام بخاری نے ان سے بہت روایتیں نقل کی ہیں۔جنگ جمل میں بھی شریک ہوئے تھے۔ان کی روایت سے عربوں کی حجر پرستی سے شغف کا پتہ چلتا ہے۔اگر پتھر نہ ملتا تو مٹی کی ڈھیری بنا کر اس پر بکری کا دودھ دوہتے کہ منجمد ہو کر پتھر کی طرح قابل عبادت ہو جائے۔عربوں میں حجر پرستی قدیم سے چلی آرہی تھی۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش مکہ جب سفر پر جاتے تھے، حریم بیت اللہ سے ایسے پتھر ساتھ لے جاتے تھے۔جہاں قیام کرتے اسے پوجتے اور اس کا طواف کرتے۔بیت اللہ کی عظمت و محبت ان کے دلوں میں تھی۔اور اگر وہ پتھر کہیں کھو بیٹھتے تو مذکورہ بالا طریق اختیار کرتے۔عہد قدیم کی کتاب پیدائش کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے سفر ہجرت کے دوران جہاں کچھ دیر قیام فرمایا، وہاں قربان گاہ بنائی اور دعا کی۔یہ قربان گاہ کیا ہوتی تھی، پتھروں کی ڈھیری اور اس پر تیل چھڑ کا جاتا۔ہو سکتا ہے کہ حضرت اسماعیل نے ابتداء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد گار قائم رکھی ہو جو رفتہ رفتہ مشرک اقوام کی تقلید میں حجر پرستی کی شکل اختیار کر گئی۔چنانچہ بعض نے مٹی کی ڈھیری پر دودھ دوہنے کو صدقہ و نذر پر عمول کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه (۱۱۳) لیکن قومی عادات و رسوم کی وجوہ ایک سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔ان کے نزدیک ماہِ رجب بھی حرمت والے مہینوں میں سے شمار ہوتا تھا جن میں لڑائی، قتل و تشد د وغیرہ ممنوع تھے۔رجب کا نام مُنَضِلُ الْأَسِنَةِ اس لئے تھا کہ اس میں نیزے اور تیر کا پھل اُتار دیتے تھے۔نصل الرمح کے معنی ہیں نیزے کو پھل لگایا اور انصل الرفع کے معنی ہوتے ہیں اس کا پھل اُتار دیا۔اسنة جمع ہے ستان کی یعنی بھالہ۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۲۵) فَلَمَّا سَمِعْنَا بِخُرُوجِهِ: خروج سے مراد ظہور یعنی فتح مکہ کا غلبہ ہے۔جب ہم نے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے ہیں تو ہم آگ کی طرف لپکے یعنی مسیلمہ کذاب کے پیرو ہو گئے۔ابورجاء نے اپنی روایت میں زمانہ جاہلیت کی بت پرستی سے شغف اور اپنے قبیلہ کے ارتداد کا ذکر کیا ہے۔خروج سے مراد دعویٰ نبوت یا ہجرت مدینہ نہیں بلکہ غلبہ مراد ہے کیونکہ فتنہ ارتداد کا واقعہ بعد کا ہے۔دعویٰ نبوت یا ہجرت اور فتنہ مسیلمہ کے درمیان بڑا عرصہ ہے۔روایت مذکورہ بالا سے ظاہر ہے کہ ابور جاء بھی اپنی قوم کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے مسیلمہ کی بیعت کی تھی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۱۴) ان کی روایت قبول کرنے سے ظاہر ہے کہ انہوں نے بعد میں تو بہ کر لی تھی۔أديان العرب في الجاهلية، الوثنية في العرب، صفحه ١٢٩)