صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 260 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 260

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۶۰ ۶۴ - کتاب المغازی يح: وَفْدُ بَنِي حَنِيفَةً وَحَدِيثُ مُمَامَةَ بنِ أُثَالٍ : قبیلہ نو حنیفہ یمامہ میں آباد تھاجو مکہ اور یمن کے درمیان ایک وسیع علاقہ ہے۔حنیفہ بن نجیم، بکر بن وائل کی نسل سے تھا۔یہ ایک بڑا قبیلہ تھا۔اس قبیلے کا وفد بھی اسی زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جس زمانہ میں وفد بنی قیس آیا۔ابن اسحاق وغیرہ مصنفین مغازی نے اس کی آمد بھی 9ھ میں متعین کی ہے۔یہ وفد سترہ کس پر مشتمل تھا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۰۹) ان میں سے قابل ذکر رحال بن عنفوۃ اور سلمیٰ بن حنظلہ سحیمی اور مسیلمہ بن حبیب ہیں۔یہ وفد سلمی بن حنظلہ کی سرکردگی میں آیا۔بقول طبقات ابن سعد ان کی خاطر و تواضع کی گئی۔مسیلمہ بن حبیب کو سامان کی حفاظت میں چھوڑ کر باقی افراد رسول اللہ صلی الم سے مسجد نبوی میں ملے اور کلمہ شہادتین کا اقرار کیا اور کئی دن مدینہ میں رہے اور آپ کی باتوں سے مستفیذ ہوتے رہے۔رحال بن عنفوہ نے حضرت ابی بن کعب سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔بوقت مراجعت آنحضرت صلی علیہم نے انہیں زاد راہ دیا اور انعام و اکرام سے نوازا۔انہوں نے نبی اکرم علیہ الصلاۃ والسلام سے عرض کی کہ ان کا ایک اور ساتھی بھی ہے جو ان کے سامان کی حفاظت کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکا۔آپ نے اسے بھی زادِ راہ دئے جانے کا ارشاد فرمایا اور فرمایا: لَيْسَ بِشَرِكُمْ مَكَانًا لِحِفْظِهِ رِكَابَكُمْ وَرِ حَالَكُمْ۔وہ بُرا نہیں ہے جس نے تمہاری سواریوں اور سامان کی حفاظت کی ہے۔بتایا گیا کہ وہ مسلمہ بن حبیب ہے اور آپ نے وفد کو ہدایت کی کہ جب تم اپنے وطن کو لوٹو تو اپنے گرجاگھر کو گرا کر وہاں مسجد بناؤ اور انہیں مشکیزہ دیا جس میں آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا۔فرمایا: اسے مسجد کی جگہ پر چھڑک لینا۔لے ابن ہشام نے مسیلمہ کذاب کی کنیت ابو ثمامہ اور اس کے باپ کا نام بھی تمامہ بتایا ہے اور اس کے ارتداد اور آنحضرت صلی اللہ تم سے اس کی خواہش کا ذکر کیا ہے کہ اسے حکومت میں شریک کیا جائے۔ان امور کا ذکر فتنہ ارتداد کے تعلق میں اپنے موقع پر مفصل کیا جائے گا۔شرکت سلطنت کا مطالبہ روایت نمبر ۴۳۷۳ میں بھی مذکور ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں حضرت ثمامہ بن اثال کا بھی ذکر ضمناً کیا ہے جو مسیلمہ کے باپ تھے۔وہ بہت پہلے اس زمانہ میں مسلمان ہوئے تھے جب مجدی قریش کی حمایت میں مہاجرین و انصار سے بر سر پیکار تھے اور ایک مہم میں قید ہوئے اور مدینہ میں بطور جنگی اسیر لائے گئے جیسا کہ باب کی پہلی روایت (نمبر ۴۳۷۲) میں مفصل ذکر ہے۔حضرت ثمامہ بن اثال اخلاص سے مسلمان ہوئے اور عمرہ کرنے کے بعد اپنے وطن کو مراجعت کی اور قریش مکہ سے وہ غلہ جو حضرت ثمامہ کی طرف سے روک دیا گیا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش پر قریش مکہ کے پاس جانے لگا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۱۱) باب کی تیسری روایت (نمبر ۴۳۷۴) سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ بالا مکاشفہ آپ کے عہد میں ہی پورا ہو ا یعنی مسیلمہ اور اسود عنسی نے اپنے اپنے علاقہ میں ادعائے نبوت کیا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۱۳) (الطبقات الكبرى لابن سعد، وفد حنيفة، جزء اول صفحه ۲۴۰) (السيرة النبوية لابن هشام، قدوم وفد بنی حنیفۃ ومعهم مسيلمة الكذاب، جزء ۲ صفحه ۵۷۷،۵۷۶)