صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 259
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵۹ ۶۴ - کتاب المغازی بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ شخص سمجھے جن کے درمیان میں ہوں۔ یعنی صنعاء الْيَمَامَةِ۔ والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب )۔ اطرافه ٣٦٢١ ، ۱۳۷۷ ، ٤۳۷۹، ٧٠٣٤ ، ٧٠٣٧۔ ٤٣٧٦: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۳۷۶ : ملت بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں قَالَ سَمِعْتُ مَهْدِيَّ بْنَ مَيْمُونٍ قَالَ نے کہا کہ میں نے مہدی بن میمون سے سنا۔ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءِ الْعُطَارِدِي يَقُوْلُ انہوں نے کہا: میں نے ابور جاء عطار دی سے سنا۔ كُنَّا نَعْبُدُ الْحَجَرَ فَإِذَا وَجَدْنَا حَجَرًا کہتے تھے: ہم پتھروں کی پوج تھے : ہم پتھروں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ جب هُوَ أَخْيَرُ مِنْهُ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا الْآخَرَ ہم ایک پتھر پاتے جو پہلے سے بہتر ہوتا، اس کو فَإِذَا لَمْ نَجِدْ حَجَرًا جَمَعْنَا جُنْوَةً پھینک دیتے اور دوسرے کو لے لیتے اور اگر کوئی مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ جِئْنَا بِالشَّاةِ فَعَلَيْنَا پتھر نہ پاتے تو ہم مٹی کو اٹھا کر کے ایک چھوٹی سی ڈھیری بناتے ، پھر اس کے بعد بکری لاتے اور اس عَلَيْهِ ثُمَّ طُفْنَا بِهِ فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ پر اُس کو دوہتے اور اس کا طواف کرتے۔ جب رَجَبٍ قُلْنَا مُنَصِّلُ الْأَسِنَّةِ فَلَا نَدَعُ رجب کا مہینہ آتا، ہم کہتے: آئی اور تیروں کے اتار رُمْحًا فِيهِ حَدِيدَةٌ وَلَا سَهُمَا فِيْهِ کر رکھ دینے والا (مہینہ) آگیا ہے۔ تو کوئی برچھا حَدِيدَةٌ إِلَّا نَزَعْنَاهُ وَأَلْقَيْنَاهُ شَهْرَ نہ چھوڑتے جس میں لوہے کا پھل ہوتا اور نہ ہی رَجَبٍ ۔ کوئی ایسا تیر جس میں لوہے کا پھل ہوتا مگر اس کو کھینچ کر نکال لیتے اور اسے رجب کے مہینے میں ہی پھینک دیتے۔ ٤٣٧٧ : وَسَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُوْلُ ۴۳۷۷ اور میں نے ابور جاء سے سنا وہ کہتے تھے: كُنتُ يَوْمَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ جس زمانہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَرْعَى الْإِبِلَ عَلَى میں اس وقت لڑکا ہی تھا۔ اپنے گھر والوں کے اونٹ چرایا کرتا تھا۔ جب ہم نے آپ کے ظاہر أَهْلِي فَلَمَّا سَمِعْنَا بِخُرُوجِهِ فَرَرْنَا ہونے کی خبر سنی، ہم بھاگ کر آگ کی طرف چلے إِلَى النَّارِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ۔ گئے یعنی مسیلمہ کذاب کی طرف۔