صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 255
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵۵ ۶۴ - کتاب المغازی بَاب ۷۰ : وَقْدُ بَنِي حَنِيفَةَ وَحَدِيْثُ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ بنو حنیفہ کے نمائندے اور ثمامہ بن اثال کا واقعہ ٤٣٧٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۴۳۷۲ : ہم سے عبداللہ بن یوسف (سیسی) نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ بیان کیا کہ ہمیں لیث (بن سعد ) نے بتایا۔ انہوں أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ نے کہا: مجھ سے سعید بن ابی سعید (مقبری) نے اللهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ علیہ وسلم نے مسجد کی طرف کچھ سوار بھیجے اور وہ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بنی حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ کر لے آئے، جسے تمامہ بْنُ أَثَالٍ فَرَبَطُوْهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي بن اثال کہتے تھے۔ انہوں نے اس کو مسجد کے الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَاذَا عِنْدَكَ يَا في صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس باہر آئے۔ آپؐ ثُمَامَةُ فَقَالَ عِنْدِي خَيْرٌ يَا مُحَمَّدُ نے پوچھا: تمامہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ (یعنی یہ کہ إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا۔) اس نے تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ کہا: محمد ! اس بارے میں میری رائے اچھی ہی ہے۔ الْمَالَ فَسَلَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرِكَ اگر تم نے مجھے مار ڈالا تو ایسے آدمی کو مارو گے جو خون کر چکا ہے۔ اگر تم احسان کرو تو شکر گزار پر حَتَّى كَانَ الْغَدُ ثُمَّ قَالَ لَهُ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةٌ فَقَالَ مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ احسان کرو گے۔ اور اگر تم مال چاہتے ہو تو اس سے جو چاہو مانگو۔ تمامہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ فَتَرَكَهُ حَتَّى كَانَ گیا۔ جب دوسرا دن ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ نے اس سے پوچھا: تمامہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ فَقَالَ اس نے کہا: میں تو عرض کر چکا۔ اگر آپ احسان أَطْلِقُوْا ثُمَامَةَ فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْل کریں تو شکر گزار پر احسان کریں گے۔ آپؐ نے ۔ نسخة اليونينية میں اس جگہ لفظ ”منجل ہے ( بخاری مطبوعہ دار طوق النجاة، جزء ۵ صفحه ۱۷۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔