صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 254
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵۴ ۶۴ - کتاب المغازی امام بیہقی نے روایت کی ہے ہے کہ کہ آنحضرت آن صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انچ سے کہا کہ تم میں دو خصلتیں ہیں۔ لے امام بن بخاری آنحضرت نے بھی الأدب المفرد میں یہ میں یہ روایت نقل کی ہے۔ کے اور دوسری دفعہ عبدان عبد القیس کا جو وفد فتح مکہ کے بعد آ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا وہ نویں ہجری میں آیا اور یہی سال عام الوفود کے نام سے مشہور ہے۔ اس وفد میں چالیس افراد تھے۔ جن میں سے ایک حضرت جاروڈ بھی ہیں جو ہیں جو عیسائی تھے اور م تھے اور مسلمان ہوئے۔ اسی وفد کا ذکر سیرت ابن ہشام کی روایت میں ہے۔ ابن حبان کی روایت میں بھی جو ابو حیوۃ صناحی سے منقول ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ مروی ہیں: مَا لِي أَرَى وُجُوهَ وُجُوهَكُمْ قَدْ تَغَيَّرَتْ " کیا بات ہے میں ؟ بات ہے میں تمہارے رنگ متغیر دیکھتا ہوں؟ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ اس سے قبل بھی آئے تھے۔ غالباً سن پانچ ہجری میں یا اس سے قبل۔ کیونکہ وفد عبد القیس نے کفار مصر کی شکایت کی کہ وہ ان کے آنے میں روک ہیں۔ اس سے بھی زمانے کا اندازہ ہو سکتا ہے جبکہ مصر مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ہود بن عبداللہ بن سعد عصری نے اپنے دادا سے روایت کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے باتیں کر رہے تھے۔ اسی دوران فرمایا : عنقریب ایک قافلہ ادھر سے آئے گا ۔ هُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ وہ اہل مشرق میں ۔ اسے اچھے لوگ ہیں۔ حضرت عمر اُٹھ کر اُس طرف گئے۔ دیکھا تیرہ سوار آرہے ہیں۔ ان سے ملے اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ وہ سواریوں سے اُترے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چومے۔ ان میں سے انتج اپنی سواریوں اور سامان کے پاس بیٹھے رہے اور سامان ٹھکانے لگا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ فِيْكَ خَصْلَتَيْنِ ۔۔۔ یہ روایت برقی کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۰۷) اس روایت کا تعلق وفد عبد القیس کی پہلی آمد سے ہے۔ روایت نمبر ۴۳۶۸ میں مذکور ہے کہ ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس سے کہا: خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ کبھی زیادہ پینے سے خمار ہو جاتا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ نہ سمجھیں کہ میں نشہ اور شراب پیتا ہوں۔ حضرت ابن عباس نے ان کی نبیز کے متعلق فتوی دینے میں احتیاط کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فتوے کے ذکر پر اکتفا کیا۔ روایت نمبر ۴۳۷۰ میں عمر وراوی، عمرو بن حارث ہیں۔ وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَر ۔۔۔ به قول طحاوی نے اسی سند سے موصولاً نقل کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۰۸) (السنن الكبرى للبيهقی، کتاب آداب القاضي، باب التثبت في الحكم ، جزء ۱۰ صفحه (۱۷۸) الادب المفرد للبخارى، باب التؤدة في الأمور، صفحه (۳۰۳) (صحیح) لابن حبان، کتاب اخباره عن مناقب الصحابة ، ذكر اشج، جزء ۱۶ صفحه ۱۷۹)