صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 253
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵۳ ۶۴ - کتاب المغازی اور دل کی وجہ سے آدمی کی احتیاج ہوتی ہے، اس کے چھڑے میں پانی نہیں پیا جاتا۔فرمایا: تم اپنی دو خصلتوں کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہو۔حضرت عبد اللہ کے دریافت کرنے پر کہ وہ دو حصلتیں کونسی ہیں؟ آپ نے فرمایا: بُردباری اور دھیما پن۔انہوں نے پوچھا أَتَى حَدَثَ أَمْ جُبِئْتُ عَلَیہ کیا یہ دونوں چیزیں عارضی شے ہیں یا فطرتی ؟ فرمایا بی جُبِلْتَ عَلَيْهِ۔یہ دو و خصلتیں تم میں عارضی نہیں بلکہ فطرتی ہیں۔لے سیرت ابن ہشام میں بھی وفد عبد القیس کا ذکر ہے اور حضرت جاروڈ سے متعلق بتایا گیا ہے کہ جب فتنہ ارتداد ہوا تو وہ دین اسلام پر مضبوطی سے قائم رہے۔وہ عیسائی تھے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں اسلام کی خاطر اپنے دین کو ترک کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ آپ ضمانت دیں کہ اسلام سے میری نجات ہوگی۔فرمایا: میں ضامن ہوں۔قَدْ هَدَاكَ اللهُ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ الله نے تمہیں بہتر دین کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔بوقت مراجعت انہیں سواری کی ضرورت ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت میسر نہ تھی تو آپ سے دریافت کیا کہ ہمارے علاقے میں لوگوں کے بھولے بھٹکے اونٹ ہوتے ہیں اگر وہ لے لئے جائیں تو جائز ہو گا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: لَا ، إِيَّاكَ وَإِيَّاهَا ، فَإِنَّمَا تِلكَ حَرَقُ النَّارِ نہیں اپنے آپ کو ان سے بچاؤ، وہ تمہارے لئے آگ کا ایندھن ہوں گے۔سیرت ابن اسحاق کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علاء بن حضر می کو فتح مکہ سے قبل نجران کی طرف بغرض تبلیغ بھیجا تھا۔منذر بن ساوی عبدی سردار قبیلہ نے اسلام قبول کیا اور بڑے اخلاص سے اس پر قائم رہے اور بحرین کے فتنہ سے قبل فوت ہوئے۔حضرت علاء بن حضرمی کی تبلیغ کا نیک اثر تھا کہ وہ علاقہ اسلام میں داخل ہوا اور وہ بحرین کے امیر مقرر کئے گئے۔امام بخاری نے وفد مذکور کے تعلق میں چار روایتیں نقل کی ہیں۔پہلی اور دوسری روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جو ابو جمرہ سے بواسطہ قرہ بن خالد اور حماد بن زید مروی ہے۔ان روایتوں میں وفد کی آمد پر خوشی کے اظہار سے متعلق الفاظ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا الشَّدَامی مغازی کے بیان میں نہیں۔اور نہ ان کی روایت میں شراب کی حرمت کا ذکر ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی محولہ روایات میں مغازی کے مذکورہ بالا واقعہ کا ذکر ہے، جس کا تعلق حضرت انجے کی آمد اور گفتگو سے ہے۔امام ابن حجر کی رائے میں قبیلہ عبد القیس کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو دفعہ آیا ہے۔ایک دفعہ فتح مکہ سے قبل اور ایک دفعہ اس کے بعد۔پہلے وفد میں تیرہ افراد تھے، اس وفد میں حضرت انجے تھے۔اسی موقع پر وفد نے ایمان اور شراب سے متعلق دریافت کیا تھا۔امام مسلم نے حضرت ابوسعید خدری سے ہے اور (الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر وفادات العرب على رسول الله ﷺ، وفود ربیعة، جزء اول صفحه (۲۳۸) (السيرة النبوية لابن هشام، قدوم الجارود فى وقد عبد القيس ضمان الرسول، جزء ۲ صفحه ۵۷۵) السيرة النبوية لابن هشام، قدوم الجارود فى وفد عبد القیس، اسلام ابن ساوی، جزء ۲ صفحه ۵۷۶) (صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب الامر بالايمان بالله ورسوله وشرائح الدين والدعاء اليه)