صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 252
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵۲ ۶۴ - کتاب المغازی جُمُعَةٍ جُمِعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللهِ انہوں نے کہا: پہلا جمعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ کی مسجد میں ہوا تھا۔اس کے بعد جو جمعہ پڑھا گیا عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى يَعْنِي قَرْيَةً مِنَ وہ عبد القیس کی مسجد میں تھا جو جوائی میں تھی۔(جوائی) بحرین کی ایک بستی تھی۔الْبَحْرَيْن۔طرفه: ۸۹۲- تشریح: وَفَدُ عَبْدِ الْقَيْسِ : ابن سعد نے وفود کی آمد کا ذکر الگ عنوان کے تحت کیا ہے۔ان کے شمار میں پچاس سے زائد وفود مختلف قبائل کی طرف سے مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے۔ان میں سے وفد عبد القیس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فتح مکہ کے سال آیا اور دعوتِ اسلام قبول کی۔اس وفد کے سردار حضرت عبد اللہ بن عوف اتج تھے۔میں افراد تھے۔جن میں سے قابل ذکر حضرت جاروڈ بن عمرو بن حنش اور حضرت منقد بن حیان ہیں۔مؤخر الذکر حضرت عبد اللہ اشج رضی اللہ عنہ کے بھانجے ہیں۔جاروڈ عیسائی تھے، جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا انشراح صدر سے جواب دیا اور اسلام قبول کر کے عمدہ نمونہ دکھایا۔باقی افراد مشرک تھے۔ان کے اسلام قبول کرنے پر قبیلہ عبد القیس مسلمان ہوا۔یہ وفد مدینہ منورہ میں دس دن رہا اور احکام دین سے واقفیت حاصل کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مہمان نوازی کا اہتمام فرمایا۔بوقت واپسی انہیں انعام و اکرام سے نوازا اور آپ کی دعا کے ساتھ اس وفد نے خوشی خوشی اپنے وطن بحرین کی طرف مراجعت کی۔اس وفد کا ذکر متعدد بار پہلے گزر چکا ہے (دیکھئے کتاب الایمان روایت نمبر ۵۳) مذکورہ بالا قبیلہ ربیعہ قوم کے بڑے قبائل میں سے تھا اور ابن سعد نے وفود ربیعہ کے عنوان سے اس وفد کا ذکر کیا ہے۔طبقات ہی میں مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صبح کو جب وفد عبد القیس آنے والا تھا، افق پر نظر ڈالی اور فرمایا: آج مشرکوں کا ایک وفد آئے گا۔لَمْ يُكْرَهُوا عَلَى الْإِسْلَام قَدْ أَنْضُوا الرِّكَابَ وَأَفْتُوا الزَّادَ یعنی وفد عبد القیس کے افراد قبولیت اسلام کے لئے مجبور نہیں کئے گئے۔وہ شوق سے آئیں گے۔شب و روز کے سفر سے اپنی سواریاں لاغر اور زادِ راہ ختم کر دیں گے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبیلہ کی رغبت اسلام سے اطلاع ملی تو انہیں مدینہ میں آنے کی دعوت دی تھی۔جس صبح کو آپ نے اس کی آمد کی بشارت دی اسی رات کو یہ وفد پہنچا۔اور آپ کو اطلاع ملی تو فرمايا: مَرْحَبًا بِهِمْ نِعْمَ الْقَوْمُ عَبْدُ الْقَيْسِ۔خوش آمدید! کیا اچھے لوگ ہیں عبد القیس کے بخاری کتاب الایمان روایت نمبر ۵۳ میں بھی اسی مفہوم کے الفاظ ہیں۔جب آپ نے صبح کو مسجد میں انہیں دیکھا تو فرمایا: تم میں سے عبد اللہ اج کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: میں ہوں یا رسول اللہ۔وہ شکل وصورت میں معمولی تھے۔آپ نے دیکھ کر فرمایا: انگ لَا يُسْتَسْقَى فِي مُسُوكِ الرِّجَالِ إِنَّمَا يُحْتَاجُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَصْغَرَيْهِ لِسَانِهِ وَقَلْبِهِ یعنی دو چھوٹے عضو زبان الطبقات الكبرى لابن سعد، ذکر وفادات العرب على رسول الله ، وفود ربیعة، جزء اول صفحه ۲۳۸)