صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 251
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵۱ ۶۴ - کتاب المغازی أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ کہ آپ نے عصر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ الرَّكْعَتَيْنِ فَأَرَاكَ تُصَلِّيْهِمَا فَإِنْ أَشَارَ میرے ہاں آئے اور اس وقت میرے پاس انصار بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ سے بنو حرام کی کچھ عورتیں تھیں۔ تو آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے آپؐ کے پاس خادمہ کو فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا بھیجا کہ اٹھو آپ کے پاس جا کر ایک طرف کھڑی انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ و جاؤ اور کہو: یا رسول اللہ ! ام سلمہ کہتی ہیں: کیا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي میں نے آپؐ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ ہوئے نہیں سنا؟ مگر اب میں آپ کو یہ پڑھتے قَوْمِهِمْ فَشَغَلُوْنِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ اگر آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے کو ہٹ جانا۔ خادمہ نے ایسا ہی اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ۔ کیا۔ جب آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے طرفه ۱۲۳۳ ہٹ گئی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے۔ آپ نے فرمایا: ابو امیہ کی بیٹی ! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا ہے۔ بات یہ ہے کہ عبد القیس کے کچھ لوگ اپنی قوم کے مسلمان ہونے کا پیغام لے کر میرے پاس آئے تھے تو انہوں نے مجھے باتوں میں مشغول رکھ کر وہ دو رکعتیں پڑھنے نہیں دیں جو نمازِ ظہر کے بعد کی پڑھی جاتی ہیں اور یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔ ٤٣٧١: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۳۷۱ : عبداللہ بن محمد جعفی نے مجھے بتایا کہ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ ابو عامر عبد الملک (بن عمر وعقدی) نے ہم سے حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ بیان کیا کہ ابراہیم نے جو کہ طہمان کے بیٹے ہیں، أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو جمرہ سے، ابوجمرہ نے عَنْهُمَا قَالَ أَوَّلُ جُمُعَةٍ جُمِعَتْ بَعْدَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔