صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 250 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 250

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵۰ ۶۴ - کتاب المغازی بیر سے روایت وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ اور بکر بن مضر نے یوں کہا کہ عمرو بن حارث سے الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَی روایت ہے، عمرو بن حارث نے نے ؛ بکیر سے ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کی کہ کریب نے جو کہ حضرت ابن عباس کے وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ آزاد کردہ غلام تھے ان سے بیان کیا کہ حضرت مَحْرَمَةَ أَرْسَلُوا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ ابن عباس ، حضرت عبد الرحمن بین از ہر اور حضرت عَنْهَا فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا مسور بن مخرمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک آدمی بھیجا۔ انہوں نے کہا: ہم سب کی صر جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ طرف سے ان کو السلام علیکم کہو اور ان سے ان دو الْعَصْرِ وَإِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّيْنَهُمَا رکعتوں کی بابت پوچھو جو عصر کے بعد نبی صلی الایم وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے پڑھی) ہیں۔ نیز ( ان سے پوچھنا کہ) ہمیں وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بتایا گیا ہے کہ آپ یہ رکعتیں پڑھا کرتی ہیں حالانکہ وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ النَّاسَ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَنْهُمَا قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا ان سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابن عباس کہتے وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُوْنِي فَقَالَتْ سَلْ تھے کہ میں تو حضرت عمرؓ کے ساتھ مل کر لوگوں أُمَّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ فَرَدُّوْنِي إِلَى کو مار کر ان دو رکعتوں۔ اسے روکا کرتا تھا۔ کریب أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى کہتے تھے کہ میں حضرت عائشہ کے پاس اندر گیا عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ اور جو پیغام دے کر انہوں نے مجھے بھیجا تھا وہ میں نے ان کو پہنچایا۔ حضرت عائشہ نے کہا: ام سلمہ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى سے پوچھو۔ میں نے ان لوگوں کو بتایا۔ تو انہوں عَنْهُمَا وَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ نے مجھے حضرت ام سلمہ کے پاس ویسا ہی پیغام عَلَيَّ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامِ دے کر بھیجا جو پیغام دے کر مجھے حضرت عائشہ مِنَ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ کے پاس بھیجا تھا۔ حضرت ام سلمہ نے سن کر یہ الْخَادِمَ فَقُلْتُ قُوْمِي إِلَى جَنْبِهِ کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ فَقُوْلِي تَقُوْلُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ان دورکعتوں سے منع فرماتے تھے اور بات یہ ہوئی