صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 249
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۴۹ ۶۴ - کتاب المغازی ابن عباس ٤٣٦٩ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۴۳۶۹ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو جمرہ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُوْلُ قَدِمَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سے سنا۔ کہتے تھے: عبدالقیس کے وَقْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ نمائندے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَّبِيعَةَ وَقَدْ حَالَتْ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمارا یہ قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ فَلَسْنَا مصر کے کفار روک بن گئے ہیں۔ ہم آپ کے نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامِ پاس ( محفوظ رہتے ہوئے) نہیں پہنچ سکتے۔ مگر ماہِ فَمُرْنَا بِأَشْيَاءَ نَأْخُذُ بِهَا وَنَدْعُو إِلَيْهَا حرام ہی میں؟ تو آپ ہمیں چند ایسی باتوں کا حکم مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ ہیں کہ جن پر ہم عمل کریں اور ان پر عمل کرنے عَنْ أَرْبَعِ الْإِيْمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ کے لئے ان کو بھی دعوت دیں جو ہمارے پیچھے لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَعَقَدَ وَاحِدَةً وَإِقَامِ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم کو چار باتیں کرنے کا الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءِ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوْا لِلَّهِ حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: اللہ پر خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ایمان لانا یعنی یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی وَالنَّقِيْرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ۔ معبود نہیں۔ ( یہ کہہ کر) آپ نے ایک انگلی بند کی اور نماز سنوار کر ادا کرنا اور زکوۃ دینا اور یہ کہ تم اللہ کے لئے ان مالوں کا پانچواں حصہ ادا کرنا جو تم غنیمت میں حاصل کرو۔ اور تم کو کدو کے تو نبے اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز لاکھی مرتبان اور لک کے روغنی برتن سے منع کرتا ہوں۔ اطرافه ۵۳، ۸۷، ۵۲۳، ۱۳۹۸ ، ۳۰۹۵ ، ۳۵۱۰ ، ٤٣٦٨ ، ٦١٧٦، ٧٢٦٦، ٧٥٥٦ - ٤٣٧٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۴۳۷۰ : يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو ، (عبد اللہ ) بن وہب نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن حارث) نے مجھے خبر دی۔