صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 247
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۴ ۶۴ - کتاب المغازی عورتیں مع بچگان قید ہوئیں جو مدینہ میں بطور پر عمال لائی گئیں۔انہیں آزاد کرانے کی غرض سے مذکورہ بالا قبیلے کا ایک وفد مدینہ میں آیا۔جن میں بنو تمیم کے سردار قعقاع بن معبد، اقرع بن حابس، عطارد بن حاجب اور زبرقان بن بدر وغیرہ تھے۔ابن سعد کی ایک روایت کے مطابق اسی نوے افراد اس وفد میں تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو اقرع بن حابس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم کی غلطی کا اقرار کیا۔عطارد نے بھی اس تعلق میں کچھ عرض کیا اور زبرقان بن بدر شاعر نے اپنے اشعار پیش کئے اور آپ کو یقین دلایا کہ اس غلطی کا اعادہ نہیں ہو گا۔ان کے بیانات سننے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف قیدی واپس فرمائے بلکہ یہ سردار چونکہ بطور وفد آئے تھے ، آپ نے اپنے دستور کے مطابق انہیں خلعت و انعام و اکرام سے نوازا۔یہاں تک کہ اُن میں سے جو افراد لڑائی میں قتل ہوئے تھے بقول ابن اسحاق ان کے خاندانوں کو دیت بھی دلوائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک سلوک سے وہ لوگ اتنے متاثر ہوئے کہ اسلام کے قابل تعریف مجاہد قرار پائے۔جیسا کہ روایت نمبر ۴۳۶۶ میں بھی اس نیک تبدیلی کا ذکر ہے۔روایت نمبر ۴۳۶۷ میں بنو عنبر کے دو شخصوں میں امیر بنائے جانے کی نسبت جس جھگڑے کا ذکر ہے اس کے متعلق طبقات ابن سعد اور سیرت ابن ہشام خاموش ہیں۔تقدیم و تاخیر اور تاریخ واقعات سے متعلق جو اعتراض ہے وہ اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ امام بخاری کی ترتیب پر نظر نہیں۔واقعہ زیر باب کسی با قاعدہ غزوہ کی صورت نہیں رکھتا بلکہ اس سے گوشمالی مقصود تھی۔اس لئے یہ واقعہ ابواب غزوات سے تعلق نہیں رکھتا اور نہ تبلیغی مہمات سے۔یہ لوگ وفد کی صورت میں بھیجے گئے تھے۔روایت ۴۳۶۶ کے آخر میں عنبری عورت کی آزادی کے لئے فرمائش کا جو ذکر ہے اس کے لئے دیکھئے کتاب العتق شرح روایت ۲۵۴۳۔بنو تمیم کا ذکر کتاب بدء الخلق، روایت نمبر ۳۱۹۰، ۳۱۹۱ میں بھی گزر چکا ہے۔اس روایت کی شرح وہاں ملاحظہ ہو۔بَابِ ٦٩: وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عبد القیس کے نمائندوں کا آنا ٤٣٦٨ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا :۴۳۶۸ اسحاق بن راہویہ ) نے مجھ سے بیان أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ کیا کہ ابو عامر عقدی نے ہمیں خبر دی کہ قرة أَبِي جَمْرَةَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ ( بن خالد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو جمرہ سے عَنْهُمَا إِنَّ لِي جَرَّةً تَنْتَبِدُ لِی نَبِيْدًا روایت کی کہ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت ؟ فَأَشْرَبُهُ حُلْوًا فِي جَرّ إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرے پاس ایک الطبقات الكبرى لابن سعد ، ذكر وفادات العرب على رسول الله ، وفد تمیم، جزء اول صفحه ۲۲۴) س فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہاں لفظ ” فيها" ہے (فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۱۰۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔