صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 246
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۴۶ ۶۴ - کتاب المغازی هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمٍ أَوْ قَوْمِي۔وہ حضرت اسماعیل کی اولاد سے ہے اور اُن کے صدقات آئے تو آپ نے فرمایا: یہ میری قوم کے صدقات ہیں۔طرفه: ٢٥٤٣- لوجة ٤٣٦٧: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۳۶۷ ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے بتایا کہ ہشام : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ أَنَّ ابْنَ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ان کو بتایا کہ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ عبد الله بن زبیر نے ان کو خبر دی کہ بنی تمیم کا قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيْمٍ عَلَى النَّبِيِّ ایک قافلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حضرت ابو بکر نے عرض کیا: قعقاع بن معبد بن أَمْرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْن زُرَارَةَ فَقَالَ زرارہ کو ان کا امیر مقرر کر دیں۔حضرت عمرؓ کہنے صلى عُمَرُ بَلْ أَمْرِ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي قَالَ لگے : نہیں، بلکہ اقرع بن حابس کو۔حضرت ابوبکر نے کہا: میری مخالفت ہی چاہتے ہو۔حضرت عمرؓ نے کہا: آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں۔دونوں عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ فَتَمَارَيَا حَتَّى میں تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَنَزَلَ فِي ذلك : ہوئیں۔پھر اس واقعہ کے متعلق یہ وحی نازل يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّهُوا بَيْنَ ہوئی: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ (الحجرات : ۲) حَتَّی کے رسول کے سامنے بڑھ چڑھ کر باتیں نہ کیا انْقَضَتْ۔اطرافة: ٤٨٤٥ ٤٨٤٧ ٧٣٠٢ - کرو۔۔۔مریح بنی عنبر بنی تمیم کاہی حصہ تھے۔ابن سعد کی روایت میں ہے کہ جب بنو عمرہ بن جندب بن العنبر نے صدقہ کا مال روکا اور خزاعہ کے لوگوں پر حملہ کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: مَنْ لَهُؤُلَاءِ الْقَوْمِ کہ ان حملہ آوروں کو کون روکے گا۔اس پر حضرت عیینہ بن بدر الفزاری نے خود اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا اور پچاس عرب سوار اُن کے ساتھ ہوئے، جن میں کوئی مہاجر اور انصاری نہیں تھا۔موقع پر پہنچ کر حضرت عیینہ نے زیادتی کرنے والوں کو روکا۔ان کے حملے کے نتیجے میں گیارہ مرد اور گیارہ