صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 245 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 245

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۴۵ ۶۴ - کتاب المغازی نوبت پہنچی ۔ ممکن ہے کہ دونوں قبیلوں کا آپس میں لین دین سے متعلق جھگڑا ہو لیکن تاہم کسی فریق کا خود بخود قوت بازو سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرنے یا اموال زکوۃ روکنے کا حق نہ تھا۔ محصل زکوۃ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ جس پر مذکورہ بالا تمیمی قبیلہ کی گوشمالی کے لئے حضرت عیینہ بن حصن بن حذیفہ کو پچاس سواروں کے ساتھ ان کے علاقہ میں بھیجا گیا۔ اس کا ذکر اگلے باب میں آتا ہے۔ باب ٦٨ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ غَزْوَةُ عُيَيْنَةَ بْنِ (محمد) بن اسحاق نے کہا: حضرت عیینہ بن حصن حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ بَنِي الْعَنْبَرِ بن حذیفہ بن بدر کا بنو عنبر پر جو کہ بنو تمیم میں سے مِنْ بَنِي تَمِيمٍ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تھا، حملہ کرنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَأَغَارَ وَأَصَابَ عیینہ کو ان کی طرف بھیجا تھا۔ حضرت عیینہ نے حملہ کیا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو زخمی و قتل کیا مِنْهُمْ نَاسًا وَسَبَى مِنْهُمْ سَبَاءً۔ اور ان میں سے کچھ کو قید بھی کر لیا۔ ٤٣٦٦ : حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ۴۳۶۶ زہیر بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ جرير (بن عبدالحمید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ عمارہ بن قعقاع سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ ابو زرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: تین باتوں کے بعد بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللَّهِ میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا رہا۔ جنہیں میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُهَا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ ان فِيهِمْ هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ کے متعلق فرماتے تھے: وہ دجال کے مقابلہ میں وَكَانَتْ فِيْهِمْ سَبِيَّةٌ عِنْدَ عَائِشَةَ میری تمام امت سے زیادہ مضبوط ہوں گے اور فَقَالَ أَعْتِقِيْهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ ان میں سے ایک قیدی عورت حضرت عائشہ کے إِسْمَاعِيلَ وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ پاس تھی۔ آپ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔ کیونکہ الطبقات الكبرى لابن سعد ، ذكر وفادات العرب على رسول الله ، وقد تميم، جزء اول صفحه (۲۲۴)