صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 244
صحیح البخاری جلد ۹ الدله ۶۴ - كتاب المغازی بَاب ٦٧ : وَقْدُ بَنِي تَمِيمٍ بنو تمیم کے نمائندوں کا آنا ٤٣٦٥ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۳۶۵ ابو ابونعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے سُفْيَانُ عَنْ أَبِي صَخْرَةَ عَنْ صَفْوَانَ بیان کیا کہ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں بْنِ مُحْرِزِ الْمَازِنِي عَنْ عِمْرَانَ بْنِ نے ابو صخره (جامع بن شداد) سے، انہوں نے حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى صفوان بن محرز مازنی سے، صفوان نے حضرت نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا انہوں نے کہا: بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ بَنِي تَمِيمٍ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ قَدْ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپؐ نے فرمایا: بنی تمیم بشارت قبول کرو۔ وہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَرُبِّيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ نے ہمیں بشارت تو دی ہے۔ ہمیں کچھ دیں بھی۔ اس بات کا اثر آپ کے چہرے میں دیکھا گیا۔ پھر فَجَاءَ نَفَرٌ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ یمن کے کچھ لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا: تم ہی قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ۔ بشارت قبول کر لو جبکہ بنو تمیم نے وہ قبول نہیں اطرافه ۳۱۹۰ ، ۳۱۹۱ ، ٤٣٨٦، ٧٤١٨۔ کی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کی بشارت قبول کر لی۔ تشریح : وَقد بَنِی تمیہ : امام بخاری نے وفد بنی تمیم کی آمد کا ذکر الگ عنوان باب سے کیا ہے۔ یہ امر پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نویں ہجری اسلامی تاریخ میں سال وفود کے نام سے مشہور ہے۔ ابن سعد نے وفود سے متعلق طبقات کبری میں سن و تاریخ کی الگ تفصیل بیان کی ہے۔ ان کے نزدیک بنو تمیم کے وفد کی آمد محرم ۹ھ میں ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۰۵) قبائل بنو تمیم، قیس اور اسد فتح مکہ میں شریک تھے۔ لے جس سے ظاہر ہے کہ فتح مکہ سے قبل یہ لوگ اسلام قبول کر چکے تھے۔ بقول ابن سعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محام عدوی اور ایک روایت کے مطابق بشر بن سفیان کو قبیلہ بنی کعب خزاعی کی زکوۃ وصول کرنے کو بھیجا۔ جب زکوۃ کا مال جمع ہو گیا اور مدینہ لانے لگے تو بنو عمرو بن جندب تمیمی نے روکا اور بنو تمیم نے خزاعہ پر حملہ کر دیا اور لڑائی تک (السيرة النبوية لابن هشام، عدة من شهد فتح مكة من المسلمين، جزء ۲ صفحہ ۴۲۱)