صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 243 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 243

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی کر حج کیا تھا لیکن مسلمان سب حضرت عتاب بن اسید کے ساتھ تھے کیونکہ وہ اس وقت امیر مکہ تھے۔علامہ ماور دی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۰۳) اس بارہ میں تو کوئی اختلاف نہیں۔اختلاف حضرت ابو بکڑ کے حج سے متعلق ہے کہ کس ماہ میں ہوا۔اس بارے میں باب کی دونوں روایتوں سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ حضرت ابو بکر ذوالحج ہی میں حج اور اعلان کی غرض سے بھیجے گئے تھے۔حضرت ابوہریرہ اور حضرت براء بن عازب کی روایات ( نمبر ۴۳۶۳، ۴۳۶۴) اس باب میں مختصر انقل کی گئی ہیں۔کتاب التفسیر میں زیر شرح سورۃ البراءة مفصل درج ہیں۔وہاں حضرت علیؓ کے بھیجے جانے اور ان کے اعلان کرنے کا بھی ذکر ہے۔اس اعلان کے الفاظ یوں تھے: لا يحج بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِك کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہیں آئے گا۔فتح مکہ ہونے پر بیت اللہ معبودانِ باطلہ سے پاک وصاف کر دیا گیا تھا اور الہی فیصلہ کے بعد مشرکین عرب کے بیت اللہ سے جو واسطے تھے وہ نابود ہو چکے تھے۔اب ان کا بیت اللہ سے تعلق رکھنا، مشرکانہ رسوم ادا کرنا، ننگے ہو کر طواف کرنا اور اپنی مرضی کے مطابق کسی کو حج کی اجازت دینا یا نہ دینا۔یہ سب باتیں وہ اپنے مالکانہ زعم میں کرتے تھے ، یہ سب ختم ہو چکا تھا۔اب بیت اللہ خالصاً اللہ ہی کی عبادت کے لئے تھا اور اسی ایک غرض کے لئے حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں اس کی بنیاد دوبارہ اٹھائی گئی تھی۔اس لئے آخری الہی فیصلہ کے بعد مشرکین کا حق نہیں تھا کہ وہ اصل غرض تعمیر میں اس بنا پر رخنہ انداز ہوں کہ ان کا قبضہ مخالفانہ رہ چکا ہے۔توحید پرستوں کا چھینا ہو ا حق انہیں بحال ہو چکا ہے اور اس کے متعلق معاہدہ صلح حدیبیہ کی مدت بھی بالطبع ختم تھی جس کا اعلان مذکورہ بالا حج کے موقع پر کیا گیا۔اس اعلان سے یہ مراد نہیں کہ اس کے ساتھ باقی عام معاہدات جو دیگر قبائل سے تھے وہ بھی منسوخ ہیں۔سورۃ البراۃ میں صراحت ہے کہ ہر معاہدہ اپنی مقررہ مدت تک قابل عمل رہے گا۔حضرت علی بھی مطلوبہ اعلان کے تعلق میں بھیجے گئے تھے۔مزید تفصیل کے لئے دیکھئے شرح سورۃ البراۃ کتاب التفسیر۔امام بخاری نے حضرت براء بن عازب کی روایت کا آخری حصہ متعلقہ شانِ نزول آیت يَسْتَفتُونَكَ درج کر کے ضمنا ایک لطیف تصرف سے کام لیا ہے اور بتایا ہے کہ غزوات کا مضمون جو قبائل عرب سے متعلق ہے وہ یہاں ختم ہے اور اس کے بعد ایک نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔امام ابن حجر نے ایک اور امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ حضرت ابو بکر کے حج کا ذکر وفود کے ذکر سے پہلے کیا گیا ہے جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جعرانہ سے واپسی پر آٹھویں ہجری کے آخر میں وفود کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور ابن اسحاق کے نزدیک غزوہ تبوک بھی سلسلہ وفود سے پہلے تھا اور نویں ہجری وفود کے نام سے معروف تھی اور عرب قبائل اسلام قبول کرنے میں غزوہ مکہ کے نتیجہ کا انتظار کر رہے تھے۔جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو قبائل عرب جوق در جوق بذریعہ وفود اسلام میں داخل ہونے لگے۔کے امام ابن حجر " کے نزدیک تقدیم و تاخیر سے متعلق یہ تصرف راویوں سے ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۰۴) اخبار مكه للأزرقى، حج اهل الجاهلية وإنساء الشهور ومواسمهم ، جزء اول صفحه ۱۷۹) ( السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر سنة تسع وتسميتها سنة الوفود، جزء ۲ صفحه ۵۶۰،۵۵۹)