صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 242
صحیح البخاری جلد ۹ b ۲۴۲ ۶۴ - کتاب المغازی تشريح : ج أَبي بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي سَنَة تسع: عنوانِ باب میں الفاظ في سنة تسع سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا حج کے وقوع کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ جس کی وجہ سے امام بخاری کو تخصیص کرنی پڑی کہ یہ حج وھ میں ہوا تھا۔ امام ابن حجر نے محب طبری کا قول نقل کیا ہے کہ صحیح ابن حبان میں حضرت ابوہریرہ سے ایک روایت منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حج سے متعلق حضرت ابو بکر کو اس وقت اس حج کا ارشاد فرمایا تھا جب آپ حسنین سے لوٹ کر جعرانہ میں مقیم تھے اور عمرہ کے لئے بیت اللہ گئے۔ لے محب طبری نے یہ یہ روایت نقل کر کے لکھا ہے کہ یہ حج ۹ھ میں ہوا تھا اور جعرانہ میں آپ فتح مکہ کے ایام میں ہی آئے ہیں۔ یہ ۸ھ کا واقعہ ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے لئے روانہ ہوتے وقت اپنے ارادے کا اظہار فرمایا ہو کہ ابو بکر امام حج ہوں گے اور حج اور ا گے اور حج اور اس کا متعلقہ اعلان وہ کریں گے۔ عمرہ جعرانہ بالاتفاق ذو القعدہ میں ہوا تھا۔ امام ابن حجر کے نزدیک حضرت ابو بکر والے حج سے متعلق تو کسی کو اختلاف نہیں کہ وہ 9ھ میں ہوا تھا لیکن یہ اختلاف ہے کہ آیا ذوالقعدہ میں ہوا ہے یا زواجج میں۔ بعد یا ذوالج میں ۔ بعض نے مجاہد کی روایت نقل کی ہے کہ یہ حج ذو القعدہ میں ہوا تھا۔ جس سے عکرمہ بن خالد نے اتفاق کیا ہے جیسا کہ حاکم نے اکلیل میں نقل کیا ہے۔ لیکن مفسرین اور پایہ کے مؤلفین مغازی اور مورخین کا اس امر میں اتفاق ہے کہ مذکورہ بالا حج نویں ہجری ذوالحج کے مہینے ہی میں اذوالحج کے مہینے ہی میں ہوا تھا۔ ہے ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۰۳) القدم ابن اسحاق نے تصریح کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے لوٹنے پر مدینہ میں رمضان، شوال اور ذو القعدہ ٹھہرے اور پھر وھ میں حضرت ابوبکر کو امیر حج مقرر کر کے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا کہ مسلمانوں کے ساتھ حج ادا کریں اور مشرکوں کا جو مقام ایام حج میں ہے اس سے انہیں آگاہ کریں۔ کے اس وقت سورۃ برات نازل ہو چکی تھی۔ جس میں اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے کا اعلان ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کے درمیان طے پایا تھا کہ کسی کو بیت اللہ کے حج سے نہیں روکا جائے گا۔ سب کو آزادی ہے جب چاہیں آئیں، حج کریں یا عمرہ۔ کسی کو اختیار نہیں کہ اس میں روک پیدا کرے۔ باب کی دوسری روایت اسی غرض سے نقل کی گئی ہے کہ سورة برات (توبہ) حضرت ابوبکر کے حج کی روانگی سے قبل نازل ہو چکی ہوئی تھی۔ سورۃ توبہ میں غزوہ تبوک کا ذکر ہے اور اس کے لئے کوچ رجب 9ھ میں کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کے نزول کے تعین کا زمانہ بھی اسی عرصہ سے تعلق رکھتا ہے جس میں اس کوچ کی تیاری ہوئی اور بعض کمزور طبع عذر کر کے اس میں شریک نہیں ہوئے اور ان پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ ازرقی نے اپنی تصنیف اخبار مکہ میں لکھا ہے کہ فتح مکہ کے سال حضرت عتاب بن اسید والی مکہ تھے اور مسلمانوں اور مشرکین نے مل جل (صحیح ابن حبان، کتاب الحج، باب فرض الحج، جزء ۹ صفحه ۲۱) (السيرة النبوية لابن هشام ، حج أبي بكر بالناس سنة تسع، تأمير أبي بكر على الحج، جزء ۲ صفحه ۵۴۳) الطبقات الكبرى لابن سعد، حجة أبى بكر الصديق بالناس، جزء ۲ صفحه ۱۲۷)