صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 241
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۴۱ ۶۴ - کتاب المغازی یہ سوال کہ امام بخاری نے ۸ھ کا مذکورہ بالا واقعہ ترتیب میں ان غزوات کے ضمن میں کیوں بیان نہیں کیا جن کا تعلق ۸ھ سے ہے ؟ او پر بتایا جا چکا ہے کہ مذکورہ بالا مہم کسی جنگ کی غرض سے نہ تھی۔ایک الگ نوعیت کا واقعہ ہے جس طرح اگلے باب کا واقعہ حج جو 9ھ میں ہوا۔بَاب ٦٦: حَجُ أَبِي بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي سَنَةِ تِسْعِ سنہ 9ھ میں حضرت ابو بکر کا لوگوں کو لے کر حج کے لئے جانا ٤٣٦٣ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ :۴۳۶۳ سلیمان بن داؤد ابوربیع نے ہم سے بیان أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنِ الزُّهْرِي کیا کہ فلح ( بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي زُہری سے ، زہری نے محمید بن عبد الرحمن سے، هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقَ رَضِيَ الله محمید نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ حضرت عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک جماعت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ کے ساتھ اس حج میں قربانی کے دن بھیجا، جس میں نبی صلی الم نے اُن کو امیر مقرر فرمایا تھا جو حجۃ الوداع حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ لَا يَحْجُ بَعْدَ الْعَامِ سے پہلے تھا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہیں آئے گا مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوْفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ۔اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے گا۔اطرافه (۳۶۹، ۱۶۲۲، ۳۱۷۷، ٤٦٥٥ ٤٦٥٦، ٤٦٥١- ٤٣٦٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءِ :۴۳۶۴ عبد اللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو اسحاق سے، الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ آخِرُ سُوْرَةٍ ابو اسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت نَزَلَتْ كَامِلَةً بَرَاءَةٌ وَآخِرُ سُوْرَةٍ نَزَلَتْ کی۔انہوں نے کہا: سب سے آخری سورۃ جو پوری خَاتِمَةُ سُوْرَةِ النِّسَاءِ : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ نازل ہوئی، سورۃ ہر آت ہے؛ حالانکہ سب سے الله يُفتِيكُم في الكَللَةِ۔(النساء : ١٧٧) آخری سورت جو نازل ہوئی سورۃ النساء کا آخر ہے: تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔کہو! اللہ تمہیں کلالہ کی اطرافه ٤٦٠٥، ٤٦٥٤، ٦٧٤٤ - بابت فتویٰ دیتا ہے۔