صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 240
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی باب کی تینوں روایتیں حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہیں اور ایک دوسرے کا اتمام یا نقص بیان کرتی ہیں۔مثلا تلقی کا مفہوم رصد ہے یا دوسری روایت میں ہے کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے اونٹ ذبح کئے۔اسی روایت میں اس کا نام دوسری سند سے قیس بن سعد بن عبادہ بتایا گیا ہے جن کا ذکر طبقات بن سعد میں بھی مذکور ہے۔اسی طرح پہلی روایت میں اٹھارہ دن مچھلی پر گزارہ کرنے اور دوسری اور تیسری روایت میں نصف مہینہ ساحل سمندر پر رہنے کا ذکر ہے۔دونوں کی کمی بیشی اندازا ہے۔اسی طرح تیسری روایت میں ہے کہ غزوہ سیف البحر کا نام غزوہ خبط ہے۔صحابہ کرام کا شدت بھوک میں غایت درجہ صبر سے کام لینا اور کسی قافلہ یا بستی سے خوراک کے لئے تعرض نہ کرنا دلیل ہے کہ غزوہ مذکور کا تعلق کسی جنگ سے نہ تھا اور نہ اُن کے نفوس زکیہ - چیرہ دستی جائز سمجھتے تھے۔دوسری روایت کے آخر میں ہے : قَالَ الحز، قَالَ نہیت۔حضرت قیس نے تین دن تک امیر جیش کے حکم کے مطابق اونٹ ذبح کر کے مجاہدین کی خوراک کا انتظام کیا۔پھر حضرت قیس کہتے ہیں کہ چوتھے دن امیر جیش نے مجھے مزید اونٹ ذبح کرنے سے روک دیا۔مغازی واقدی میں ہے کہ حضرت قیس بن سعد نے کسی شخص سے جو جہینہ قبیلے کا تھا پانچ اونٹ پانچ وسق کھجور کے حساب سے اس شرط پر خریدے تھے کہ مدینہ میں کھجوریں دی جائیں گی اور صحابہ کی شہادت و تصدیق سے یہ بیچ ہوئی۔حضرت عمر بن خطاب نے یہ دیکھ کر کہ یہ بار نا قابل ادا ہو گا حضرت قیس کو روک دیا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۰۲) آخر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سمندری مچھلی سے ان کی خوراک کا انتظام کیا، جو باب کی پہلی روایت کے مطابق اٹھارہ دن کے لئے اور دوسری اور تیسری روایت کے مطابق پندرہ دن کے لئے مکتفی ہوئی۔فتح الباری میں ابو الزبیر کی روایت کا ذکر ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: فَأَقَمْنَا عَلَيْهَا شَهْرًا کہ جیش میں شامل لوگوں نے پچھلی کی خوراک پر ایک ماہ گزارہ کیا۔اس اندازہ سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا حفاظتی چوکی کم و بیش ایک ماہ تک اس علاقے میں بطور نگران رہی۔ابوالزبیر کی روایت جس میں ایک ماہ قیام کا ذکر ہے۔اسے امام نووی نے اس بنا پر ترجیح دی ہے کہ اس میں زیادہ دن مچھلی کی خوراک پر گزارہ کرنے کا ذکر ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۰۰) تیسری روایت کے آخر میں الفاظ فَأَخبرنی أبو الزبیر کی روایت کا حوالہ ہے جس کا ذکر فتح الباری میں ہے۔روایت کرنے والے ابن جریج ہیں جو روایت نمبر ۴۳۶۲ کے راوی ہیں۔ایک ہی سند سے ابن جریج نے ابو الزبیر کی یہ روایت بھی بتائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب مچھلی کا ذکر ہوا تو آپ نے اسے رزق حلال قرار دیا اور خود بھی اس سے کھایا۔معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کرام کچھ گوشت اسی غرض سے اپنے ساتھ مدینہ لے آئے تھے۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۱۰۲) مچھلی خشک کی جاسکتی ہے۔کشمیر میں خشک مچھلی بکثرت فروخت ہوتی ہے۔الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ وسراياه، سرية الخبط، جزء ۲ صفحه (۱۰۰) المغازى للواقدي، سرية الخبط، جزء اول صفحه ۷۷۵ (مسلم، کتاب الصيد والذبائح، باب اباحة ميتات البحر)