صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 237
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۳۷ ۶۴ - کتاب المغازی قافلہ کی نگرانی میں بیٹھ گئے۔سمندر کے کنارے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ عبد اللہ سے سنا۔کہتے تھے : رسول اللہ صلی الم نے رَاكِبٍ أَمِيْرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاح ہمیں بھیجا۔ہم تین سو سوار تھے۔ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح تھے۔قریش کے تجارتی نَرْصُدُ عِيْرَ قُرَيْشٍ فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَصَابَنَا جُوْعٌ شَدِيدٌ ہم آدھا مہینہ ٹھہرے رہے اور ہمیں سخت بھوک حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ فَسُمِّيَ ذَلِكَ لگی۔یہاں تک کہ ہم نے پتے بھی کھائے۔اس لئے الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ فَأَلْقَى لَنَا اس فوج کا نام جیش الخبط رکھا گیا۔اس اثناء میں الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا سمندر نے ہمارے لئے ایک جانور جس کو عنبر کہتے مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ ہیں، پھینک دیا۔ہم اس کا گوشت آدھا مہینہ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا فَأَخَذَ کھاتے رہے اور اس کی چربی بدن پر ملا کرتے۔أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاعِهِ فَنَصَبَهُ یہاں تک کہ ہمارے جسم پھر ویسے کے ویسے تازہ فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ قَالَ ہو گئے (جیسے پہلے تھے۔) حضرت ابو عبیدہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پہلی لی اور اس کو کھڑا سُفْيَانُ مَرَّةً ضِلِيْعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ کیا اور سب سے لمبا شخص جو اُن کے ساتھ تھا اُس فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِيْرًا فَمَرَّ تَحْتَهُ کو لیا۔اور ایک بار سفیان بن عیینہ) نے اپنی قَالَ جَابِرٌ وَكَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ روایت میں یوں کہا کہ انہوں نے اس کی پسلیوں نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ میں سے ایک پسلی لی، اس کو کھڑا کیا۔پھر ایک آدمی جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ إِنَّ سمع اونٹ کے لیا جو اُس کے نیچے سے گزر گیا۔أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ وَكَانَ عَمْرُو يَقُولُ حضرت جابر نے یہ بھی کہا کہ لشکر میں ایک شخص تھا جس نے (لوگوں کے کھانے کے لئے تین دن) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ تین تین اونٹ ذبح کئے۔پھر حضرت ابو عبیدہ نے قَالَ لِأَبِيْهِ كُنْتُ فِي الْجَيْشِ فَجَاعُوْا اس کو روک دیا؛ اور عمرو بن دینار) کہتے تھے: قَالَ انْحَرْ قَالَ نَحَرْتُ قَالَ ثُمَّ ابوصالح ( ذکوان) نے ہمیں بتایا کہ قیس بن سعد جَاعُوْا قَالَ انْحَرْ قَالَ نَحَرْتُ قَالَ نے اپنے باپ سے کہا: میں بھی اسی فوج میں تھا اور ثُمَّ جَاعُوْا قَالَ انْحَرْ قَالَ نَحَرْتُ ثُمَّ ان کو بھوک لگی تو حضرت ابو عبیدہ نے کہا: اونٹ