صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 236
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۳۶ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اُن پر حضرت ابو عبیدہ ثَلَاثُ مِائَةٍ فَخَرَجْنَا وَكُنَّا بِبَعْضٍ بن جراح کو امیر مقرر فرمایا اور وہ تین سو تھے۔ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ ہم نکلے اور ابھی کچھ راستہ طے کیا تھا کہ زادِ راہ ختم بِأَزْوَادِ الْجَيْشِ فَجُمِعَ فَكَانَ مِزْوَدَيْ ہو گیا۔ حضرت ابو عبیدہ نے حکم دیا کہ سب تو شے تَمْرٍ فَكَانَ يَقُوْتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيْلًا اکٹھے کئے جائیں۔ چنانچہ وہ اکٹھے کئے گئے تو وہ تو وہ گل قَلِيلًا حَتَّى فَنِي فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا دو تھیلے کھجوروں کے بنے۔ حضرت ابو عبیدہ نہیں ہر روز تھوڑا تھوڑا کھانے کے لئے دیتے رہے تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ فَقُلْتُ مَا تُغْنِي عَنْكُمْ یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گیا۔ ہمیں ایک ایک تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِيْنَ کھجور ملتی تھی۔ میں ۔ میں نے حضرت جابر سے پوچ پوچھا: فَنِيَتْ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ فَإِذَا ایک کھجور تمہاری کیا بھوک دور کرتی ہوگی۔ حُوْتٌ مِثْلُ الطَّرِبِ فَأَكَلَ مِنْهَا انہوں نے کہا: جب وہ بھی نہ انہ رہی تو ہم نے اس الْقَوْمُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو وقت ایک کھجور کی عدم موجودگی محسوس کی۔ ہم عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبا سمندر پر پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں بڑے ٹیلے کی طرح ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ ایک مچھلی ہے۔ لوگ اُس سے اٹھارہ راتیں کھاتے تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا ۔ رہے۔ پھر حضرت ابو عبیدہ نے اس کی پسلیوں کے متعلق حکم دیا تو اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں اور اونٹنی کے بارے میں کہا تو اُس پر کجاوہ رکھا گیا۔ وہ اُن دونوں پسلیوں کے نیچے سے گزر گئی اور ان کو چھوا تک نہیں۔ اطرافه ۲۴۸۳ ، ۲۹۸۳ ، ٤٣٦١ ، ٤٣٦٢ ، ٥٤٩٣، ٥٤٩٤۔ ۴۳۶۱ ٤٣٦١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الَّذِي حَفِظْنَاهُ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ نے کہا: عمرو بن دینار سے جو ہم نے یاد رکھا ہے بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُوْلُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ وہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن