صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 235
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۳۵ ۶۴ - کتاب المغازی ذَهَابُ جَرِيرٍ إِلَى الْيَمَنِ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی کو واقعہ ذوالخلصہ کے بعد یمن کے دو بڑے سرداروں کی طرف دعوتِ اسلام کی غرض سے بھیجا۔ایک کا نام ذوالکلاع اور دوسرے کا نام ذو عمر د تھا۔قبیلہ حمیر میں ان کی حیثیت بادشاہوں ہی کی تھی۔حضرت جریر اپنی تبلیغی مہم میں کامیاب ہوئے اور دونوں نے اسلام قبول کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے کے لئے اُن کے ساتھ مدینہ کی طرف چل پڑے لیکن راستے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا علم ہوا اور دونوں لوٹ گئے اور حضرت جریر سے کہا کہ حضرت ابوبکر خلیفہ وقت سے عرض کرنا کہ ہم پھر حاضر ہوں گے۔حضرت عمر کے زمانہ میں دونوں ہجرت کر کے مدینہ میں آگئے۔ان میں سے ذوالکلاع کا نام ایفع بن باکو راء ہے ، باپ کا نام حو شب بن عمرو۔ذوالکلاع نے حضرت جریر سے کہا کہ اُن کی بیوی ام شرحبیل سے بھی ملیں اور انہیں دعوتِ اسلام دیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۹۶٬۹۵) سیرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں۔یہ تبلیغی قسم کی ایک انفرادی مہم تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی کے دونوں حمیر کی سرداروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ اسلام میں فائدہ اُٹھایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ۱۲ ربیع الاول اھ میں ہوا تھا۔حضرت جریر کی مذکورہ مہم آخری ایام ہی سے متعلق ہے۔واقعہ مذکورہ بالا سے بھی ظاہر ہے کہ امام بخاری نے مغازی و سرایا کی ترتیب میں تاریخ و قوع ملحوظ رکھی ہے۔تاریخ وصال سے متعلق دیکھئے شرح باب ۸۵۔بَابِ ٦٥: غَزْوَةُ سِيْفِ الْبَحْرِ غزوہ سیف البحر کا بیان وَهُمْ يَتَلَقَّوْنَ عِيْرًا لِقُرَيْشٍ وَأَمِيْرُهُمْ اور صحابہ قریش کا تجارتی قافلہ لینا چاہتے تھے اور ان کے امیر حضرت ابو عبیدہ تھے۔أَبُو عُبَيْدَةَ۔٤٣٦٠ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ :۴۳۶۰ اسماعیل بن ابی اویس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے وہب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بن کیسان سے ، وہب نے حضرت جابر بن عبد اللہ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ وَأَمَّرَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے