صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 233 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 233

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۳۳ ۶۴ - کتاب المغازی بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَيْشِ ذِي السَّلَامِلِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَحَذَثَتْ نَفْسِي أَنَّهُ لَمْ يَبْعَثُنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِلَّا لِمَنْزِلَةٍ لِي عِنْدَهُ۔فَأَتَيْتُهُ حَتَّى فَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ - رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے مجھے ذو السلاسل کے دستہ پر امیر بنا کر بھیجا حالانکہ لوگوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی تھے۔میرے دل میں یہ بات آئی کہ آپ نے مجھے ابوبکر اور عمرہ پر جو مقرر فرمایا ہے تو یہ اس لیے ہے کہ آپ کی نظر میں میرا بھی کچھ مقام ہے۔چنانچہ میں (واپس) آکر آپ کے سامنے بیٹھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ لوگوں میں سے آپ کو کون زیادہ پیارا ہے۔مجھے اس روایت کا مذکورہ بالا شرح لکھنے کے بعد علم ہوا اور مجھے خوشی ہوئی کہ میرا قیاس درست نکلا کہ حضرت عمرو بن عاص کو اُن کی خواہش کے مطابق جواب اس لئے نہیں دیا کہ مبادا اُن کے نفس میں عجب پیدا ہو اور وہ اصلاح تزکیہ سے محروم نہ ہو جائیں۔امام ابن حجر نے مذکورہ بالا روایت بروایت علی بن عاصم، خالد حذاء سے نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۴) مذکورہ بالا غزوہ کب ہو !؟ اس بارہ میں مؤلفین مغازی میں اختلاف ہے۔ابن سعد نے طبقات میں جمادی الآخر آٹھویں ہجری کے اور اسماعیل بن ابی خالد نے اپنی کتاب صحیح التاریخ میں ساتویں ہجری کا ذکر کیا ہے۔ابن عساکر نے غزوہ موتہ کے بعد اس کا وقوع بتایا ہے اور لکھا ہے کہ اس پر مؤرخین کا اتفاق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۳) ثقہ اصحاب مغازی کے نزدیک غزوہ موتہ جمادی الاولی ۸ھ میں ہوا۔(دیکھئے شرح باب (۴۴) اس لئے لے دھ سے متعلق قول درست نہیں۔امام بخاری نے جس واقعاتی ترتیب سے غزوات کا ذکر کیا ہے اس کی رو سے ظاہر ہے کہ اس کے زمانہ وقوع کا تعلق نویں اور دسویں ہجری سے ہے۔بَابِ ٦٤: ذَهَابُ جَرِيرٍ إِلَى الْيَمَنِ حضرت جریر کا یمن کی طرف جانا ٤٣٥٩ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي :۴۳۵۹ عبد اللہ بن ابی شیبہ عبسی نے مجھ سے شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيْسَ عَنْ بیان کیا کہ (عبد اللہ ) بن اور لیس نے ہمیں بتایا۔إِسْمَاعِيْلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ عَنْ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے جَرِيرٍ قَالَ كُنْتُ بِالْيَمَنِ فَلَقِيْتُ رَجُلَيْنِ قیس ( بن ابی حازم) سے ، قیس نے حضرت جریر مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ذَا كَلَاعٍ وَذَا عَمْرِو بن عبد اللہ بجلی ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: دلائل النبوة للبيهقي، باب غزوة ذات السلاسل، جزء ۴ صفحه ۴۰۱،۴۰۰) الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية عمر و بن العاص الى ذات السلاسل، جزء ۲ صفحه ۹۹)