صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 232 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 232

۶۴ - کتاب المغازی صحیح البخاری جلد ۹ ان پروانوں میں حبرون، بیت عینون اور مرحوم اور قبیلہ تمیم کے دیہات کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ عاصم بن ابی صیفی، عمرو بن ابی صیفی اور انجم بن سفیان اور علی ابن سعد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔1 مذکورہ بالا دیہات فلسطین میں ہیں۔رفاعہ بن زید جذامی اور بہذیم قضائی اور قبیلہ جذام اور زمل بن عمرو عذری کے نام پر بھی خطوط لکھے گئے۔جن میں امان کا اعلان اور احکام اسلام کی پابندی کا ذکر ہے۔رفاعہ بن زید جذامی سے متعلق سیرت ابن ہشام میں صراحت ہے کہ وہ صلح حدیبیہ کے ایام میں مسلمان ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی قوم کے نام انہیں خط دیا جس میں دعوتِ اسلام کا مضمون تھا اور ان کی قوم سب مسلمان ہو گئی۔کے علاوہ ازیں قبیلہ طے کی حفاظت کے لئے بھی ایک خط بنو اسد کو لکھا گیا۔اس میں انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ کلے کے علاقہ اور ان کے پانیوں سے کسی قسم کا تعرض نہ ہو۔ورنہ آپ لوگ محمد (صلی ) کی ذمہ داری سے آزاد ہوں گے یعنی تم سے جنگ کرنی پڑے گی۔ہے مذکورہ بالا خط و کتابت سے اتنا پتہ چلتا ہے کہ اسلام ان قبائل میں آہستہ آہستہ سرایت کر رہا تھا اور حضرت عمرو بن عاص کے ان قبائل سے تعلقات قرابت تھے۔تبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت کی کہ ان قبائل سے مدد لی جائے اور تعلقات کی وجہ سے فائدہ اُٹھایا جائے۔انہی امور کے مد نظر حضرت عمرو بن عاص کا تقرر بطور امیر جیش کیا گیا۔امام بخاری کی روایت زیر باب میں غزوہ کی تفصیل نہیں۔صرف یہ ذکر ہے کہ حضرت عمرو بن عاص علاقہ ذات السلاسل کی طرف بھیجے گئے۔جب واپس آئے تو اُن کا بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کو لوگوں میں سے کون زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: عائشہ۔پھر پوچھا کہ مردوں میں سے کون ؟ فرمایا: عائشہ کے باپ۔پھر پوچھا؟ تو فرمایا: عمر اسی طرح دریافت کرنے پر آپ نے بعض اشخاص کا نام لیا۔حضرت عمرو کہتے ہیں کہ میں اس خوف سے چپ ہو گیا کہ کہیں اُن کا نام آخر میں ہو۔مذکورہ بالا روایت سے پایا جاتا ہے کہ حضرت عمرو بن عاص اپنی مہم سے کامیاب کوٹے ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کی کامیابی اتنی بڑی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کا نام لیں گے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ماہر نفسیات، حکیم حاذق اور امراض نفس کے معالج بے مثل تھے، انہیں ان کی مرضی کے مطابق جواب نہیں دیا اور ثالا ہے ، مبادا نفس میں عجب پیدا ہو اور وہ اصلاح و تزکیہ نفس سے محروم ہو جائے۔چنانچہ بیہقی کی روایت میں جو خالد حذاء سے مروی ہے۔حضرت عمرو بن عاص کے یہ الفاظ منقول ہیں: ( مجموعة الوثائق السياسية، وثيقہ نمبر ۴۱ تا ۴۸، صفحه ۱۲۸ تا ۱۳۵) (مجموعة الوثائق السياسية، وثیقه نمبر ۱۷۳ تا ۱۷۹، صفحه ۲۷۹ تا ۲۸۲) (السيرة النبوية لابن هشام، قدوم رفاعة بن زيد الجذاهی، جزء ۲ صفحه ۵۹۶) (مجموعة الوثائق السياسية، وثيقه نمبر ۲۰۲ الی بنی اسد، صفحه ۳۰۳)