صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 231
صحیح البخاری جلد ۹ اور ۲۳۱ ۶۴ - کتاب المغازی میں سے تھے اور ان کا عیسائی نام سر جس تھا۔حضرت ابو بکر کے اخلاق حمیدہ اور ان کی پاکیزہ زندگی سے فیضیاب ہوئے ر مسلمان ہو گئے۔آپ نے انہیں احکام اسلام سے واقف کیا اور رعایا سے نیک سلوک کرنے کی تلقین فرمائی۔کہا: آدمی مسلمان ہونے کے بعد لوگوں کے لئے بطور تعویذ ہو جاتا ہے۔وہ اپنوں اور ہمسایوں کے لئے پناہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ذمہ دار ہوتا ہے۔فَإِيَّاكَ لَا تُخْفِرِ اللَّهَ فِي جِيرَانِهِ فَيُثْبِعَكَ اللَّهُ خَفْرَتَهُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ يُغْفَرُ في جَارِهِ فَيَظْلَّ نَاتِنا عَضَلَهُ غَضَبًا لِجَارِهِ أَن أُصِيُبَتْ لَهُ شَاةٌ أَوْ بَعِيرُ فَاللهُ أَشَدُّ غَضَبًا لِجَارِه - دیکھنا خبر دار ہمسایوں کے متعلق حفاظت کی جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہے اسے پورا کرنا۔اس میں خیانت نہ ہو ورنہ اللہ کو تاہی و غداری کی وجہ سے تمہارا پیچھا کرے گا۔سوا اگر تم میں سے کسی نے اپنے ہمسائے سے اس کے حقوق کی نگہداشت نہ کی تو وہ اس کے آڑے آئے گا اور وہ اس کے ہمسایہ کی وجہ سے ناراض ہو کر اس کارگ وپے کاٹ ڈالے گا۔کیا ہی قیمتی نصیحت ہے جو حضرت ابو بکڑ نے سردار قبیلہ کو فرمائی۔اس سے غزوہ تخم و جذام کی مہم کی غرض و غایت متعین ہوتی ہے۔طبقات الکبریٰ ابن سعد کے بیان سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا کہ بنو قضاعہ مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں تو آپ نے حضرت عمرو بن عاص کو تین سو مجاہدین انصار و مہاجرین کے ساتھ علاقہ ذات السلاسل کی طرف بھیجا۔فَعَقَدَ لَهُ لِوَاءٌ أَبْيَضَ وَجَعَلَ مَعَهُ رَأيَةً سَوْدَاء - یعنی سفید علم کی گرہ لگا کر ان کے سپرد کیا اور اس کے ساتھ سیاہ پرچم بھی دیا ( تا عند الضرورت اس سے بھی کام لیا جائے) اور فرمایا کہ قبائل بلی، غذرہ اور بنو قین سے بھی مدد لی جائے۔جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ خم و جذام قوم کے ارادے اچھے نہیں۔وہ حملے کی تیاری کر رہے ہیں تو حضرت عمرو بن عاص نے رافع بن مکیش جہنی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی قیادت میں مجاہدین و انصار کی جمعیت بھیجی۔جن میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر جیسے بڑے پایہ کے صحابہ تھے اور ان کی مدد سے سارا علاقہ آخری حدود تک فتح کیا۔جہاں معمولی سا مقابلہ ہوا اور آخر مقابلہ کرنے والے اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے۔امیر جیش نے حضرت عوف بن مالک اشجعی کو آنحضرت صلی اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تا حالات سے آپ کو آگاہ کریں۔کے مغازی کے دونوں مؤلفین کا بیان تقریبا متفق ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا مہم نتیجہ کے لحاظ سے دراصل تبلیغی مہم تھی۔غزوہ موتہ کے بعد مذکورہ بالا اکثر قبائل کے نفوس میں اچھی تبدیلی پیدا ہو چکی تھی۔اس کا پتہ اس خط وکتابت اور پروانہ ہائے امن و امان سے چلتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی نخم کے قبیلہ حدس، داری، زیاد بن جہور نمی اور قبیلہ بلی کے خاندان بنی جھیل کے نام پر صادر ہوئے۔ان سے علاقہ کی بھی تعین ہوتی ہے۔(السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة عمرو بن العاص ذات السلاسل، جزء ۲ صفحه ۶۲۵،۶۲۴) الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية عمرو بن العاص إلى ذات السلاسل، جزء ۲ صفحه ۱۰۰،۹۹)