صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 230
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۳۰ ۶۴ - کتاب المغازی جائے گا۔یعنی باغات اور چشموں میں اور لہلہاتے کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے پھل بوجھ کی وجہ سے ٹوٹے جارہے ہوں۔“ ( تفسیر صغیر ) میں خطاب وادی القریٰ کے آباد علاقہ کے باشندوں سے ہے۔کسی زمانہ میں عاد و ثمود یہاں بستے تھے۔پھر اُن کے بعد یہود ان پر قابض ہوئے اور زراعت اور آب رسانی کو ترقی دی اور پہلو بہ پہلو قضاعہ ، جہینہ، بلی، عذرا وغیرہ قبائل بھی یہیں آباد تھے۔جیسا کہ شرح باب ۳۹ میں غزوہ خیبر کے تعلق میں بتایا جا چکا ہے کہ یہود اس علاقہ میں قدیم زمانہ سے آباد چلے آتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیبر اور فدک سے واپس آئے تو یہاں کے یہودی باشندوں نے بھی اہل خیبر کی شرطوں کے مطابق صلح کرلی تھی اور اس کا نیک اثر آس پاس کے قبائل عرب پر بھی ہوا جبکہ جہینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیف تھا۔باب ۴۴ کی شرح میں غزوہ موتہ کی تفصیلات میں مذکورہ بالا قبائل کا ذکر گزر چکا ہے۔شرحبیل اس علاقہ کا سر دار تھا اور بنو نم اور بنو جذام عیسائی رومانی رسم و رواج اور ان کے دینی عقائد سے متاثر تھے اور غزوہ موتہ ان کے سردار شرحبیل ہی کی چیرہ دستی و ظلم کا نتیجہ تھا۔زیر باب غزوہ انہی دو قبیلوں کی طرف منسوب ہے۔سیرت ابن ہشام میں اس کا ذکر حضرت عمرو بن عاص کے نام سے کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ذات السلاسل بنو عذرہ کے علاقہ کا نام تھا۔سلسل کے معنی ہیں آب رواں سلاسل جمع ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ عاص بن وائل کی والدہ خاندان بلی میں سے تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شام کی فوج کشی کے لئے عربی قبائل کو اپنی طرف مائل کر کے اُن میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے تھے۔مذکورہ بالا قبائل سے تعلقات قرابت کی وجہ سے حضرت عمرو بن عاص کو علاقہ ذات السلاسل کی طرف بھیجا گیا۔جب قبیلہ جذام کے علاقے میں پہنچے تو انہیں اس کی طرف سے خدشہ پیدا ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمک کے لئے کہلا بھیجا۔آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو مع مہاجرین سابقین روانہ فرمایا، جس میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابہ بھی شامل تھے اور آپ نے حضرت ابو عبیدہ سے بوقت روانگی ارشاد فرمایا: لا تختلفا تم دونوں نے آپس میں اختلاف نہیں کرنا۔جب حضرت ابو عبید کا وہاں پہنچے تو حضرت ابو عبیدہ بطور امام نماز پڑھانے لگے تو حضرت عمرو بن عاص نے کہا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے امیر غزوہ بنایا ہے۔آپ تو میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ نے اس بات کی تصدیق کی۔چنانچہ بعد ازاں حضرت عمرو بن العاص نے ہی نماز میں لوگوں کی امامت کی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۳) حضرت عمرو بن عاص مذکورہ بالا مهم سے متعلق اپنی ذمہ داری محسوس کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں اپنی حیثیت واضح کر دینی پڑی۔سیرت ابن ہشام میں غزوہ ذات السلاسل سے متعلق صرف دو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ایک سے معلوم ہوتا ہے کہ رافع بن ابی رافع طائی جو رافع بن عمیرہ ہیں، قبیلہ کلے سے اور عیسائی سرداروں ل (معجم البلدان، حرف القاف، باب القاف والراء القرى، جزء ۴ صفحه ۳۳۸) السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة عمرو بن العاص ذات السلاسل، جزء ۲ صفحه ۶۲۳، ۶۲۴)