صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 229
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۲۹ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ حضرت عمرو بن عاص کو ذات السلاسل کی فوج پر فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ افسر مقرر کر کے بھیجا۔ حضرت عمرو کہتے تھے: قَالَ عَائِشَةُ قُلْتُ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ جب میں آپ کے پاس (واپس) آیا تو میں نے أَبُوْهَا قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ عُمَرُ فَعَدَّ آپؐ سے پوچھا: لوگوں میں سے آپ کو کون زیادہ رِجَالًا فَسَكَتْ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي پیارا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے کہا: في آخِرِهِمْ۔ طرفه: ٣٦٦٢ - مردوں میں سے کون زیادہ پیارا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اس کا باپ ۔ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: عمر۔ اس کے بعد کئی شخصوں کو آپ نے شمار کیا۔ پھر میں چپ ہو رہا اس خوف سے کہ کہیں آپ مجھے سب لوگوں کے آخر نہ کر دیں۔ تشریح : غَزْوَةُ ذَاتِ السَّلَاسِلِ: ذات السلاسل چشمہ کا نام ہے۔ جس کے محل وقوع سے متعلق صراحت ہے کہ یہ قبائل بلی، عذرہ اور بنو قین کا علاقہ تھا جو اس چشمہ کے نام سے معروف تھا۔ یہ تینوں قبیلے قضاعہ کی شاخیں تھیں اور بڑے قبائل میں سے شمار کئے جاتے تھے۔ بلی میں یائے مشد و نسبتی ہے۔ یہ قبیلہ بہت بڑا تھا۔ اس کا نسب نامہ یوں ہے: بلی بن عمرو بن الحاف بن قضاعہ ۔ دوسرا قبیلہ عذرہ تھا، یہ قبیلہ بھی بہت بڑا تھا۔ اس کا نسب نامہ یوں ہے : غذرہ بن سعد ہذیم بن زید بن لیث بن سوید بن اسلم ابن الحاف بن قضاعہ اور اس کا قبیلہ اسی کے نام سے مشہور ہوا۔ بنو قین قبیلہ قین بن جسر کی طرف منسوب تھا جو ایک غلام تھا اور جسر بن شیع اللہ بن اسد بن وبره بن ثعلب بن حلوان بن عمران بن الحاف بن قضاعہ کا لے پالک تھا اور اسی سے منسوب ہوا۔ اس کا نام نعمان بن جسر بن شیخ اللہ تھا۔ یہ تینوں قبیلے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی بودو باش علاقہ ذات السلاسل میں تھی۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۳) جس کا محل وقوع بقول ابن سعد وادی القریٰ کے ورے ہے۔ مدینہ اور اس کے درمیان دس دن کا سفر ہے۔ وادی القری خیبر سے شمال مغربی جانب ہے۔ یہ وادی شام تک پھیلی ہوئی ہے اور اس میں بہت سی بستیاں تھیں۔ جس کی وجہ سے اس کا نام اس کا نام وادی القریٰ مشہور ہوا۔ یعنی بستیوں کی وادی۔ یہ سرسبز شاداب علاقہ ہے اور اس میں یہودیوں کی بستیاں اور مستحکم قلعے تھے۔ مفسرین کے نزدیک آیت اشْتَرَكُونَ فِي مَا هُهُنَا امِنِينَ لا فِي جَنَّتٍ وَعُيُونٍ لا وَ زُرُوعٍ وَنَخْلِ طَلْعُهَا هَضِيمٌ ) (الشعراء: ۱۴۷ تا ۱۴۹) ترجمه از تفسیر صغیر صغیر : : " کیا تم خیال کرتے ہو کہ ) جو کچھ اس (دنیا) میں ہے تمہیں اسی میں امن کے ساتھ (زندگی بسر کرتے ہوئے) چھوڑ دیا ↓ ا الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية عمر و بن العاص الى ذات السلاسل، جزء ۲ صفحه (۹۹)