صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 228
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۲۸ ۶۴ - کتاب المغازی سے ظاہر ہے جو اس عرصہ میں قبائل عرب کی طرف سے مدینہ آئے اور اسلام میں داخل ہوئے۔وفود کا ایک سلسلہ پیہم تھا جو آیت إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ لا وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًان ( النصر : ۳۲) کا مصداق تھا۔اسلام میں داخل ہونے والے قبائل کے وفود کی تعداد کم و بیش ستر (۷۰) ہے، جن کے حالات جو طبقات الکبریٰ ابن سعد میں محفوظ ہیں، ان میں سے اکثر کا تعلق نویں ہجری سے ہے جو عام الوفود کے نام سے مشہور ہے اور ان کے اسلام قبول کرنے سے دسویں ہجری میں اصنام توڑنے کی مہمیں پہنچ گئیں۔ان وفود کی مہمان نوازی کے اخراجات کا اندازہ کریں۔آپ کو آیت وَوَجَدَكَ عَابِلًا فَاغْنى ل ( الضحى: 9) کی صداقت کا علم ہوگا۔ان میں سے بعض وفد دین سیکھنے کی غرض سے مدینہ میں کئی کئی دن ٹھہرے اور ان کی نہ صرف عرصہ قیام ہی میں خاطر خواہ مہمان نوازی کی گئی بلکہ بعض کو زادِ راہ اور خلعت تک دیئے گئے۔سارا عرب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک پروردہ کنبے کی حیثیت رکھتا تھا۔اس ماحول توحید و وحدت ملتی میں جبر و اکراہ کا سوال ہی نہ تھا کہ یہ کہا جائے کہ عربوں کے معبد و بت خلاف مرضی توڑے گئے۔معترضین بوقت اعتراض واقعات کا تاریخی پس منظر فراموش کر دیتے ہیں یا اُس سے ناواقف ہوتے ہیں۔امام بخاری نے ابواب کی ترتیب میں صحت واقعات و تاریخ ہی مد نظر رکھی ہے۔چنانچہ یہ باب اور اس سے ما قبل ابواب میں مندرجہ واقعات سب ایک ہی نوعیت کے ہیں۔بَاب ٦٣ : غَزْوَةُ ذَاتِ السَّلَاسِلِ وَهِيَ غَزْوَةُ لَحْمٍ وَجُذَامَ غزوہ ذات السلاسل اور اس کو غزوہ تخم اور جذام بھی کہتے ہیں قَالَهُ إِسْمَاعِيْلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَقَالَ یہ اسماعیل بن ابی خالد نے کہا اور ( محمد ) بن اسحاق ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عُرْوَةَ هِيَ نے یزید بن رومان) سے، یزید نے عروہ (بن بِلَادُ بَلِي وَعُذْرَةَ وَبَنِي الْقَيْنِ۔زبیر ) سے نقل کیا کہ ذات السلاسل بلی اور عذرہ اور بنو قین کی بستیاں تھیں۔٤٣٥٨ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا :۴۳۵۸ اسحاق ( بن شاہین) نے ہم سے بیان کیا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَاءِ کہ خالد بن عبد اللہ ( طحان) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابو عثمان (نہدی) اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” جب اللہ کی مدد اور فتح آئے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ اللہ کے دین دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔“