صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 227
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۲۷ ۶۴ - کتاب المغازی وفد تھا جو بیعت اسلام کے فیصلے سے آیا تھا اور بیعت کر کے خوشی خوشی ایک مبارک مہم سر کرنے کی غرض سے یہ کو مسلمین کا گروہ اپنے وطن کو لوٹا اور قبیلہ بنو احمس کو بھی اپنے ساتھ اس میں شریک کیا۔یہ لوگ بھی مدینہ میں زیر قیادت قیس بن عزرہ احمسی اگر مسلمان ہو چکے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر انہوں نے احمس اللہ کے نام سے اپنا تعارف کرایا تھا۔یعنی مخلص پکے دیندار۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَآنْتُم الْيَوْمَ اللهِ - آج تم اللہ ہی کے ہو چکے ہو۔یہ بقول ابن سعد اڑھائی سو کا وفد تھا۔دونوں قبیلوں نے مل کر بت خانہ خلصہ کو مسمار کیا۔لے قبیلہ خشم و باہلہ کے پروہتوں اور ان کے حمایتیوں نے مزاحمت کی جس پر لڑائی ہوئی اور انہوں نے مقابلہ میں شکست کھائی۔آخر یہ بت خانے اور ہر دوارے کیا تھے۔جہالت و توہمات کی جگہیں، ریا کاری و مکاری کی تماشا گاہیں، جن کے مکین آلوده، فسق و فجور و حظوظ نفسانیہ میں مبتلا خلق خدا سے بے گانہ صنم پرستی و شہوت پرستی دو مترادف الفاظ ہیں، جن کی ترجمانی یہ معبد کرتے تھے۔یہ پروہتوں کی ملکیت نہ تھے بلکہ قبائلی سرمایہ سے معمور عمارتیں تھیں اور ان کے پجاریوں کی اکثریت مسلمان ہو چکی تھی۔چنانچہ مذکورہ بالا بت خانہ گرانے کے بعد وہاں ایک مسجد تعمیر ہوئی جو اب تک وہاں بطور تاریخی یادگار قائم ہے۔کہ باب کی پہلی دونوں روایتوں کا مضمون مفہونا تقریباً وہی ہے جو طبقات الکبریٰ میں ہے۔ایک نہایت تلخ و مشقت آمیز جہاد کے بعد بلاد عربیہ میں توحید الہی سے مانوس، شرک اور صنم پرستی سے نفرت کی جو فضا پیدا ہوئی تھی اس میں کسی بت خانے کا باقی رہنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی گوارا نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں احتمال تھا کہ قوم عرب میں مشرکانہ عقائد ورسوم پھر عود کر آئیں۔توحید پرست مسلمانوں کا جو عبرت انگیز حال ہندوستان کی مشرک اقوام کے زیر اثر ہوا ہے وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ہندؤوں کے توہمات اُن میں سرایت کئے ہوئے ہیں۔ان کے رسم و رواج کی تقلید ہے۔بت پرستی تو نہیں مگر قبر پرستی کی وہی لعنت ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دم واپسیں اپنی امت کو یہ کہہ کر ڈرایا تھا: قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَاءِ هِمْ مَسَاجِدَ۔اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔آنحضرت مئی ملی کم کا حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی کو الاثر تیخینی مِن ذِي الْخَلَصَةِ کا فقرہ ارشاد فرمانا اسی قسم کے فکر و خدشات کی ترجمانی کرتا ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب مواقيت الصلاة تشریح باب ۳۱ تا۳۳۔غرض فتح کے بعد دو سال کے مختصر عرصہ میں قبائل عرب کے مزعومہ مصنوعی خداؤں اور ان کے گھروں کو ختم کر دیا گیا۔وہ اسی سازگار ذہنی تبدیلی کی موافقت و ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔یہ امر اُن وفود کی آمد الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر وفادات العرب، وفد بجيلة، جزء اول صفحه ۲۶۱) (معجم البلدان، باب الخاء واللام وما يليها ، خلص، جزء دوم صفحه ۳۸۳، ۳۸۴) (صحیح البخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة فى البيعة، روایت نمبر ۴۳۷)