صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 226
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۳۶ ۶۴ - کتاب المغازی حرم کہلاتا تھا۔ اعشی باہلہ ایک مرثیہ کے مطلع میں اپنے سوتیلے بھائی منتشر کے قاتل کو مخاطب کرتا اور کہتا ہے: أَصَبْتَ في حَرَمٍ مِنَّا أَخَائِقَةٍ هند بن أَسْمَاءَ، لَا يَهْنِي لَكَ الظَّفَرُ (1) اے ہند بن اسماء تو نے حرم میں ہمارے ایک قابل اعتماد بھائی کو قتل کیا ہے، تجھے یہ غلبہ مبارک نہ ہو حرم سے مراد خلصہ کا حرم ہے۔ خشم و بجیلہ وغیرہ قبائل طائف اور نجران کے درمیان تھے جہاں سے تجارتی قافلوں کا راستہ گزرتا تھا۔ علاقہ غیر بھی انہی قبائل کا تھا جو یمن کے شمال میں ہے۔ خلصہ کا بت خانہ بلاد عرب میں حج کا ایک دوسرا مرکز تھا۔ خداش بن زہیر عامری شاعر اور عشعث بن وحشی کے درمیان معاہدہ تھا۔ ثانی الذکر نے اس سے غداری کی تو شاعر کہتا ہے کہ میں نے اس خیال سے کہ عثعث نصیحت حاصل کرے، اُسے اللہ کا واسطہ دیا اور اس میعادی صلح کا جو ہمارے درمیان تھی۔ تبالہ مقام اور پھر بیضاء (ذوالخلصہ ) کا بھی واسطہ دیا کہ وہ عہد نہ توڑے اور نعمان بن مندر کے عیسائی ہوتے وقت بیٹھنے کی جگہ کا بھی واسطہ دیا مگر اس نے پرواہ نہیں کی۔ مکمل شعر یوں ہے: وَذَكَرْتُهُ بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَمَا بَيْنَنَا مِنْ مُدَّةٍ لَوْ تَذَكَّرَا وَبِالْمَرْوَةِ الْبَيْضَاءِ يَوْمَ تَبَالَة وَمَجْلَسَةِ النُّعْمَانِ حَيْثُ تَنَقَّرَا (۲) اس شعر میں خلصہ صنم کا ذکر بِالْمَرْوَةِ الْبَيْضَاءَ سے کیا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بت سفید پتھر کا بنا ہو ا تھا اور عقیق وغیرہ سرخ رنگ کے جواہرات سے مرصع اور مزین تھا۔ خلصہ ایک پھولدار پودے کا نام بھی ہے۔ جس کے بیچ خوبصورت سرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۹) ہمارے ہاں بھی ایک ایسا پودہ ہے۔ اس پودے کے نام پر ذو الخلصہ کہلاتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد قبائل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے نہایت متاثر تھے اور چاروں طرف سے اُن کے وفود اسلام میں داخل ہونے کے لئے آنے لگے۔ جس کی وجہ سے نویں اور دسویں ہجری عام الوفود کے نام سے مشہور ہیں۔ واھ میں قبیلہ بجیلہ و خشم کے وفد بھی مدینہ میں آئے۔ بجیلہ وفد کے سردار حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی اور ختم کے سردار عشعث بن زحر اور انس بن مدرک تھے۔ یہ دونوں وفد الگ وقتوں میں آئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی سے فرمایا: أَلَّا تُرِيحَنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ۔ اب جبکہ لوگ صداقت اسلام مان چکے ہیں تو ذوالخلصہ صنم کی موجودگی سے میری تشویش اُس وقت تک وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک اس کا بت خانہ قائم ہے۔ چنانچہ باب ۶۲ کی روایتوں میں اسی بت خانے کے گرائے جانے کا ذکر ہے۔ ڈیڑھ صد کا یہ أديان العرب في الجاهلية، أصنام العرب وبيوت عبادتها، ذو الخلصة ، صفحہ ۱۳۸) (معجم البلدان، باب الخاء واللام وما يليها، خلص، جزء دوم صفحه ۳۸۳) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر وفادات العرب، وفد بجيلة، وفد خثعم ، جزء اول صفحه ۲۶۱)