صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 225
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۲۵ ۶۴ - کتاب المغازی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ سن کر اُس نے ان کو توڑ دیا اور (اللہ کی واحدانیت بِذَلِكَ فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الله کا اقرار کیا۔ پھر حضرت جریر نے ایمس قبیلہ کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ وَالَّذِي ایک شخص کو جس کی کنیت نیت ابوار طاہ تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ آپ کو ذو الخلصہ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ حَتَّى تَرَكْتُهَا کے گرائے۔ رائے جانے کی بشارت دے۔ جب وہ وه شخص كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ قَالَ فَبَرَّكَ النَّبِيُّ نبی صلی الہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: یارسول الله! صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق دے کر أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ۔ بھیجا، میں نہیں آیا جب تک کہ اُس کو اس طرح نہیں چھوڑا جس طرح کہ خارشی اونٹ ہوتا ہے۔ کہتے تھے : یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احمس کے گھوڑوں اور اس کے آدمیوں کے لئے پانچ بار دعا کی۔ اطرافه ۳۰۲۰ ، ۳۰۳۶ ، ۳۰۷۶، ۳۸۲۳، ٤٣٥٥ ٤٣٥٦ ٦٠٨٩، ٦٣٣٣- تشريح : غَزْوَةُ ذِي الْخَلَصَةِ : الخَلَصَة (لام کی زبر) یا الخلصة (لام کی جزم) نام کا ایک بت خانہ تھا جو بنو حتم کے علاقہ میں بنایا گے بنایا گیا تھا اور اس میں ایک صنم تھا جو ذو الخلصہ کے نام سے مشہور تھا۔ روایت کے ابتدائی حصہ سے ظاہر ہے کہ اس بت خانہ کا نام کعبہ یمانی اور کعبہ شامی بھی تھا۔ جہت یمن کی طرف واقع ہونے کی وجہ سے بعض لوگ اسے قبلہ یمانی کہتے تھے۔ امام ابن حجر نے یہ وجہ تسمیہ قبول نہیں کی۔ ان کے نزدیک یمن میں واقع ہونے کی وجہ سے اس بت خانہ کا نام یمانی تھا اور چونکہ شام کی جہت اس کا دروازہ رکھا گیا تھا۔ اس لئے اس کا دوسرا نام کعبہ شامیہ تھا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۰) اسی نام سے ایک اور بت خانہ قبیلہ دوس میں تھا۔ جس کا ذکر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت (کتاب الفتن، روایت نمبر ۷۱۱۶) میں ہے۔ یہ معبد بیت اللہ کی نقل میں تھا۔ ذوالخلصہ میں بتوں سے تیروں کے ذریعہ فال لی جاتی تھی اور صنم پرستی کا مرکز تھا۔ اس کے پروہت بنو امامہ باہلی تھے۔ ایک ہی نام سے دوبت خانوں کے درمیان فرق کرنے کی غرض سے عنوان باب کی تخصیص کی گئی ہے۔ بت خانہ مذکور مقام تبالہ میں تھا جو مکہ ویمن کے درمیان کے علاقہ میں تھا۔ مکہ مکرمہ سے سات راتوں کا سفر تھا۔ قبائل خشتم، بجیلہ ، از دسراۃ اور قبیلہ ہوازن کی وہ گوتیں جو تبالہ کے قرب وجوار میں آباد تھیں اس کی پوجا پاٹ کرتیں اور نذر نیاز چڑھاتیں۔ بیت اللہ ہی کی طرح اس کا طواف کیا جاتا اور اس کے لئے قربانیاں ذبح کی جاتی تھیں اور اس کا احاطہ ۔ (معجم البلدان، باب الخاء واللام وما يليها، خلص، جزء دوم صفحه ۳۸۳)