صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 224
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۲۴ ۶۴ - کتاب المغازی فَقُلْتُ بَلَى فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِيْنَ سے بے فکر نہیں کرو گے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا ( يا رسول اللہ !) یہ کہہ کر میں احمس قبیلہ کے ایک أَصْحَابَ خَيْلٍ وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى سو پچاس سوار لے کر چل پڑا۔ یہ سب شہوار تھے اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ الْخَيْلِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا۔ آپؐ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي میرے سینہ پر ہاتھ (اس زور سے مارا کہ میں نے حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي آپ کے ہاتھ کا نشان اپنے سینہ میں لگا دیکھا اور وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا آپؐ نے دعا کی: اے اللہ ! اس کو (گھوڑے پر ) قَالَ فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْد مضبوطی سے بیٹنے کی توفیق دے اور اس کو ہادی اور مہدی بنا۔ حضرت جریر کہتے تھے : اس کے بعد قَالَ وَكَانَ ذُو الْخَلَصَةِ بَيْتًا بِالْيَمَنِ میں کبھی گھوڑے سے نہیں گرا۔ انہوں نے کہا: لِخَثْعَمَ وَبَجِيْلَةَ فِيْهِ نُصُبٌ تُعْبَدُ اور ذوالخلصہ یمن میں ختم اور بجلیہ قبیلوں کا ایک يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا معبد تھا جس میں بت رکھے ہوئے تھے، جنہیں بِالنَّارِ وَكَسَرَهَا قَالَ وَلَمَّا قَدِمَ جَرِيرٌ پوجا جاتا تھا۔ لوگ اس کو کعبہ کہتے تھے۔ حضرت الْيَمَنَ كَانَ بِهَا رَجُلٌ يَسْتَقْسِمُ بِالْأَزْلَامِ جری کہتے تھے: وہ وہاں آئے اور آگ سے اُسے جلا دیا اور توڑ پھوڑ دیا۔ قیس کہتے تھے: جب فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللَّهِ حضرت جریر یمن میں پہنچے وہاں ایک شخص تھا جو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَا هُنَا فَإِنْ تیروں سے فال لیا کرتا تھا۔ اسے کہا گیا کہ رسول قَدَرَ عَلَيْكَ ضَرَبَ عُنُقَكَ قَالَ الله صلی اللہ علیہ وسلم کا پیامبر یہاں ہے۔ اگر اُس فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْرِبُ بِهَا إِذْ وَقَفَ نے تم پر قابو پالیا، تمہاری گردن اڑا دے گا۔ عَلَيْهِ جَرِيرٌ فَقَالَ لَتَكْسِرَنَّهَا وَلَتَشْهَدَنَّ کہتے تھے: تھے: اسی اثناء میں کہ وہ تیروں سے فال نکال رہا تھا کہ حضرت جریر اس کے پاس آکر أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ کھڑے ہوئے اور کہا: تمہیں ان کو توڑنا اور یہ قَالَ فَكَسَرَهَا وَشَهِدَ ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ اقرار کرنا ہوگا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ إِلَى ورنہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ کہتے تھے : یہ