صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 222
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۲۲ ۶۴ - کتاب المغازی بَاب ٦٢ : غَزْوَةُ ذِي الْخَلَصَةِ غزوة ذو الخلصه ٤٣٥٥: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ :۴۳۵۵ مسدد نے ہمیں بتایا کہ خالد بن عبد اللہ حَدَّثَنَا بَيَانٌ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيْرٍ قَالَ طحان نے ہم سے بیان کیا کہ بیان (بن بشر ) نے كَانَ بَيْتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُقَالُ لَهُ ہمیں بتایا۔انہوں نے قیس ( بن ابی حازم) سے، ذُو الْخَلَصَةِ وَالْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ وَالْكَعْبَةُ میں نے حضرت جریر (بن عبداللہ بجلی) سے الشَّأْمِيَّةُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ روایت کی۔انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں ایک بت خانہ تھا جسے ذوالخلصہ ، کعبہ یمانی اور کعبہ شامی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيْحُنِي مِنْ ذِي کہتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا الْخَلَصَةِ فَنَفَرْتُ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِيْنَ کہ کیا ذوالخلصہ کو ختم کر کے تم مجھے اس کی طرف رَاكِبًا فَكَسَرْنَاهُ وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا سے بے فکر نہیں کرو گے ؟ یہ سن کر میں (اپنی عِنْدَهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ قوم کے ایک سو پچاس سوار لے کر چل پڑا۔ہم وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ۔نے وہ ( بت خانہ) توڑ دیا اور جن کو اُس کے پاس پایا انہیں قتل کر دیا۔پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے ہمارے لئے اور احمس قبیلہ کے لئے دعا کی۔اطرافه: ۳۰۲۰ ، ۳۰۳۶، ۳۰۷۶، ۳۸۲۳، ۱۳۵۶، ٤۳۵۷ ٦٠٨٩، ٦٣٣٣- ٤٣٥٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۴۳۵۶ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحی حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنَا ( بن سعيد قطان) نے ہمیں خبر دی کہ اسماعیل بن ابی خالد) نے ہمیں بتایا کہ قیس (بن ابی حازم) نے ہم سے بیان کیا۔کہتے تھے: مجھ سے الله فَيْسٌ قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ رَضِيَ عَنْهُ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيْحْنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ عليه وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ کی وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى الْكَعْبَةَ طرف سے بے فکر نہیں کرو گے ؟ اور یہ ختم قبیلہ