صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 221 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 221

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۲۱ ۶۴ - کتاب المغازی پہلی روایت جو حضرت براء بن عازب کی یہاں مختصر اور دوسری جگہ مفصل مذکور ہے، اس میں آیا ہے کہ حضرت علی نے قبیلہ ہمدان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط سنایا تو سارا قبیلہ ہی مسلمان ہو گیا اور جب حضرت علی کے پیغامبر نے یہ خوش خبری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی تو آپ بے ساختہ سجدے میں گر گئے۔اس روایت کے یہ الفاظ ہیں: قَالَ الْبَرَاءُ فَكُنْتُ مِمَّنْ عَقَبَ مَعَهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ خَرَجُوا إِلَيْنَا فَصَلَّى بِنَا عَلِيٌّ وَصَفَنَا صَفًّا وَاحِدًا ثُمَّ تَقَدَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَتْ هَمْدَانُ جَمِيعًا فَكَتَبَ عَلِيَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْلَامِهِمْ فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ خَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ السَّلَامُ عَلَى هَمْدَات (فتح البارى جزء ۸ صفحه ۸۲، ۸۳) حضرت برا کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت علی کے ساتھ پیچھے رہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب ہم قبیلہ کے لوگوں کے پاس پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ہم سب نے ایک ہی صف بنائی۔پھر حضرت علی آگے بڑھے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا تو ہمدان قبیلہ کے سب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔چنانچہ حضرت علی نے ہمد ان کے اسلام لانے کی خبر بذریعہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔جب آپ نے خط پڑھا تو سجدہ شکر بجالاتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور گر گئے۔پھر سر اٹھایا اور کہا کہ ہمدان پر خدا کی سلامتی نازل ہو۔امام بخاری نے حضرت براء بن عازب کی یہ روایت مقدم درج کی ہے اور اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت علی نے دعوت اسلام سے متعلق ہدایت نبوئی میں نرمی کا سلوک مد نظر رکھا اور یہ حضرت خالد بن ولیڈ سے لڑائی اور غنیمت کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب انہیں یمن سے بلوایا گیا اور حضرت علی کو وہاں بھیجا گیا۔حضرت خالد بن ولید کی مہم طائف اور جعرانہ سے واپسی پر بھیجی گئی تھی۔روایت نمبر ۴۳۴۹ میں جملہ مرُ أَصْحَابَ خَالِدٍ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَن يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ۔۔۔قابل وضاحت ہے۔یعقب جنگی اصطلاح تھی جس کے معنی میدان جنگ سے واپسی پر فوج یا اس کے افراد کا دوبارہ جانا۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت خالد کے ساتھ مجاہدین کی جو فوج واپس آئی ہے ان میں سے کوٹنے والوں کے ساتھ حضرت براء بن عازب تھے جو روایت نمبر ۴۳۴۹ کے راوی ہیں۔ان کی اس روایت میں حضرت خالد بن ولیڈ کی مہم حضرت علیؓ سے پہلے بھیجی گئی تھی لیکن عنوان باب میں حضرت علی کا ذکر مقدم ہے۔یہ تصرف اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ مہم کی اصولی غرض حضرت علی کے ذریعہ سے پایہ تکمیل کو پہنچی۔ا۔(السنن الكبرى للبيهقى، مُجَمَّاعُ أَبْوَابِ سُجُودِ الشَّهُو وَسُجُود الـ عودِ الشَّكْرِ ، باب سجود الشكر، جزء ۲ صفحه ۵۱۶)