صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 220 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 220

خصم ۲۲۰ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی مبالغہ آمیز روایتوں میں سے اس واقعہ کی بابت ایک وہ روایت ہے جو مسند احمد بن حنبل میں ہے اور جس میں حضرت بریدہ کے یہ الفاظ مروی ہیں: ابغَضَتُ عَلِيًّا بُعْضًا لَمْ أَبْغِضُهُ أَحَدًا قَط قَالَ وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أَحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا " مجھے حضرت علی سے شدید بغض تھا اتنا بغض کبھی کسی اور سے نہیں ہوا۔یہاں تک کہ ایک قریشی شخص سے اس لئے شدید محبت تھی کہ وہ حضرت علی سے بغض رکھتا تھا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۳) یہ مبالغہ آمیزی کی انتہا ہے۔اسی قسم کی غلط روایتوں کا ازالہ مذکورہ بالا دو مستند روایتوں سے کیا گیا ہے کہ حضرت خالد و حضرت بریدہ رضی اللہ عنہما کو وقتی طور پر حضرت علی سے ناراضگی ہوئی تھی جو دور ہوئی۔مسند احمد بن حنبل کی مذکورہ بالا روایت جو عبد الجلیل سے مروی ہے اس میں حضرت بریدہ کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شکایت پر فرمایا: اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! آلِ علی کا خمس میں ایک لونڈی سے بڑھ کر ہے۔یہ سن کر مجھے حضرت علیؓ سے شدید محبت پیدا ہوئی، اتنی کہ اُن سے بڑھ کر لوگوں میں مجھے کوئی اور محبوب نہیں تھا۔یہ حصہ روایت بھی مبالغہ آمیز ہے۔اور اصلح کندی کی ایک روایت میں آنحضرت صلی الم کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں: لا تقع في عَلى فَإِنَّهُ مِنّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّكُم بَعْدِي - ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۸۳، ۸۳) بریدہ! علی سے بغض نہ رکھو کیونکہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارا وارث و سر براہ ہو گا۔اس روایت کے الفاظ کھلے طور پر مدعیان حب علی کی غمازی کر رہے ہیں۔امام احمد بن حنبل بہکی یہ روایت اس لحاظ سے بھی کمزور ہے کہ اس کا پہلا حصہ آخری کے خلاف ہے اور انہوں نے اس بارے میں مختصر روایت بھی نقل کی ہے۔امام ابن حجر نے لونڈی سے مباشرت کے بارے میں کئی ایک اشکال کا ذکر کیا ہے۔یہ حصہ مضمون کتاب النکاح سے متعلق ہے۔تفصیل کے لیے وہاں دیکھئے۔بحالت خفگی سر سے پانی ٹپکتے دیکھ کر مباشرت کے بارے میں قیاس کرنا خود خیالِ خام ہے۔گویا حضرت علی کو مسائل استبراء کا بھی علم نہ تھا اور یہ بھی علم نہ تھا کہ اپنے لئے تقسیم مخصوص کرنا بھی جائز نہیں اور غزوہ خیبر کے واقعات بھی اُن سے نظر انداز ہوئے۔اس بارے میں ابن اسحاق کی روایت کے الفاظ نبوی حضرت علی کے زہد و تقویٰ کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں: أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَشْكُوا عَلِيًّا، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَخْشَنُ فِي ذَاتِ اللهِ أَوْ فِي سَبِيْلِ اللهِ مِنْ أَن یشگی۔" یعنی اے لوگو! علی کا شکوہ نہ کرو۔اللہ کی قسم !وہ اللہ کی خاطر یا ے اللہ کی راہ میں خود بھی بہت کرخت انسان ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں لانے سے قبل مجاہدین کے تن سے یمنی جے ( ریشمی کپڑے اتر دالینے والا اور ایک ڈلی سونے تک آپ کی خدمت میں پیش کر کے آپ کے مبارک ہاتھوں سے اس کی تقسیم کا خواہاں ہونے والا انسان خود غرضی اور شہوت رانی سے مطعون ہو، کیسے درست ہو سکتا ہے۔حضرت علی کے تدبر اور ان کی تقویٰ شعاری کے تعلق ہی میں باب کی آخری دو روایتیں نقل کی گئی ہیں فَتَدَ بروا۔ل (مسند احمد بن حنبل، مسند الأنصار ، حديث بريده الاسلمی ، جزء ۵ صفحه ۳۵۰) ۲ (مسند احمد بن حنبل، مسند الأنصار ، حدیث بريده الاسلمی ، جزء ۵ صفحه ۳۵۶) السيرة النبوية لابن هشام ، حجة الوداع، شَكَا عَلِيًّا جَندُهُ إلَى الرَّسُولِ، جزء ۲ صفحه ۶۰۳)