صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 219 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 219

۲۱۹ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی سَبِيلِ اللهِ مِن أَن يُفگی۔کہ علی کا شکوہ نہ کرو۔اللہ کی قسم! وہ اللہ کی خاطر یا یہ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خود بھی بہت ہی سخت انسان ہے۔(اپنے نفس کو بھی جان جوکھوں میں ڈالنے والا ہے۔) اس کے متعلق شکوہ اور گلہ کیا ؟! لے باب ۶۱ کی روایت نمبر ۴۳۵۰ میں بھی حضرت بریدہ بن حصیب کی ناراضگی اور شکایت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انہیں سمجھانے کا ذکر ہے۔یہ بریدہ وہی ہیں جنہیں حضرت علی امیر جیش نے اموالِ غنیمت کا نگران مقرر کیا تھا اور غالباً یہی ان کی حجتہ الوداع کے لئے غیر حاضری میں ان کے نائب تھے۔محمد بن بشار کی روایت نمبر ۴۳۵۰ میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت بریدہ دونوں کی حضرت علی سے کشیدگی کا ذکر ہے۔ثانی الذکر کی کشیدگی کا سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اُن سے اموالِ غنیمت قبضہ میں لئے جانے کے وقت ناگوار صورت پیدا ہوئی۔جیسا کہ ۴۳۵۰ کے الفاظ سے پایا جاتا ہے۔جو یہ ہیں کہ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضُ الْخُمُسَ وَكُنتُ أُبَغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْتُ لِخَالِد ألا ترى إلى هذا۔۔کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو حضرت خالد کے پاس بھیجا کہ وہ غنیمت کا پانچواں حصہ لائیں اور میں حضرت علی سے ناراض تھا اور انہوں نے وہاں غسل کیا۔میں نے حضرت خالد سے کہا: کیا تم انہیں نہیں دیکھتے کہ کیا کرتے ہیں۔روایت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے سے ان کے دل کی خلش دور ہوگئی تھی۔روایت نمبر ۴۳۵۱ میں حضرت ابوسعید خدرٹی کی ایک روایت بھی مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکایت کرنے والے ایسے ہی قماش کے لوگ تھے جن کے طعن وتشنیع سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مطہرہ بھی محفوظ نہیں رہی۔اس روایت سے بھی ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مجاہدین عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل میں وہ سونے کی ڈلی تقسیم فرمائی تو حضرت علی کے ساتھیوں میں سے کسی شخص نے کہا کہ ان لوگوں سے تو وہ اور اس کے ساتھی زیادہ حقدار تھے کہ یہ ڈلی انہیں دی جاتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر کی اطلاع ملنے پر آپ نے فرمایا: کہ کیا مجھے امین نہیں سمجھا جاتا بحالیکہ آسمان والے نے مجھے امین سمجھا ہے۔دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اموالِ غنیمت پانے سے متعلق سوء ظن حضرت علی کے خلاف ناراضگی پیدا ہونے کا سبب تھا جس کا ازالہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تحقیق کے بعد عمدگی سے فرمایا۔مذکورہ بالا واقعہ کی وجہ سے شیعہ حضرات اور خارجی طبع لوگوں کو مبالغہ آمیز باتیں بنانے کا موقع ملا۔ایک خارجی طبع شخص کے اعتراض کا ذکر مذکورہ بالا روایت میں ہے۔اس کا نام حضرت ابو سعید خدری کی ایک روایت میں ذوالخویصرہ التمیمی وارد ہوا ہے۔(روایت نمبر ۳۶۱۰) اور ایک دوسری روایت میں حرقوص بن زہیر سعدی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۸۶) اسی کی نسل سے خارجیوں کا گروہ پیدا ہوا جن کی علامتوں کا مفصل ذکر کتاب التوحید روایت نمبر ۷۵۶۲ میں دیکھا جائے۔اس تعلق میں کتاب استتابة المرتدین روایت نمبر ۶۹۳۳ بھی دیکھئے۔(السيرة النبوية لابن هشام ، حجة الوداع، شَكَا عَلِيًّا جَندُهُ إلَى الرَّسُولِ، جزء ۲ صفحه ۶۰۳)