صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 218 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 218

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۱۸ ۶۴ - کتاب المغازی سعد روایت میں بھی ان سے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ حضرت علی نے انہیں اموالِ غنیمت کا نگران مقرر کیا تھا۔ابن س نے حضرت خالد بن ولید کی مہم کا ذکر الگ عنوان میں کیا ہے جو ربیع الاول ۱۰ھ میں قبیلہ بنو عبد المدان کی طرف روانہ کی گئی۔یہ قبیلہ نجران میں آباد تھا۔طبقات ابن سعد میں اس مہم کی کوئی تفصیل نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا دونوں مہموں کا ذکر عنوان باب ۶۱ میں اکٹھا کیا گیا ہے۔ابن اسحاق نے بھی حضرت علیؓ کے یمن سے مراجعت کے عنوان سے اس مہم کا ذکر کیا ہے اور اس میں علاقہ نجران کو اُن کے روانہ کئے جانے کی صراحت ہے۔کے نجران یمن ہی کی ایک ریاست تھی۔اس سے بھی امام بخاری کے قائم کردہ عنوان کی تصدیق ہوتی ہے۔حضرت خالد بن ولید کے رسالہ سے لڑائی ہوئی۔جس میں اموالِ غنیمت حاصل ہوئے۔حضرت خالد کے واپس بلانے اور حضرت علی کے اُن کی جگہ مقرر کئے جانے سے ظاہر ہے کہ وہاں لڑائی ایسی صورت میں ہوئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ناگوار تھی۔حضرت علی کے حکم سے اموالِ غنیمت ایک جگہ جمع کئے گئے اور قبیلہ مذرج کو بلایا گیا اور اسلام کی دعوت دی گئی مگر اُن کی طرف سے اس پیغام سلامتی و امن کا جواب تیر و پتھر سے دیا گیا۔حضرت علی نے صف بندی کا حکم دیا اور حضرت مسعود بن سنان سلمی امیر اللواء مقرر ہوئے اور لڑائی ہوئی جس میں قبیلے کے ہیں آدمی مارے گئے اور شکست کھا کر ادھر اُدھر بھاگ گئے۔ان کا تعاقب نہیں کیا گیا بلکہ دعوتِ اسلام قبول کرنے کا دوبارہ پیغام بھیجا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ سردارانِ قبیلہ حضرت علی سے بیعت کر کے دین اسلام میں داخل ہوئے اور کہا: باقی لوگوں کے ہم ذمہ دار ہیں وہ بھی مسلمان ہیں اور یہ ہماری زکوۃ کے مال ہیں۔ان سے جو اللہ کا حق ہے لے لیں۔حضرت علی کامیاب و کامران یمن سے کوٹے اور مکہ مکرمہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کو خوش خبری دی۔یہ خلاصہ ہے ابن سعد کے بیان کا۔ابن اسحاق کے بیان میں ہے کہ جب حضرت علی یمن سے واپس آئے تو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے میں جلدی کی اور اپنے لشکر میں سے اپنے ایک ساتھی کو قائم مقام افسر مقرر فرمایا۔جب ملاقات کے بعد واپس لشکر میں گئے تو دیکھا کہ مجاہدین یمنی نئے جوڑے پہن کر خوشی خوشی حضرت علی کے استقبال کے لئے کھڑے ہیں۔آپ نے قائمقام امیر سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس پر مجاہدین کے امیر نے کہا کہ اموالِ غنیمت میں یہ نئی ریشمی چادریں تھیں جو میں نے انہیں دیں کہ زیب تن کر کے خوش ہوں۔فرمایا: فوراً اتروائی جائیں جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش نہ کی جائیں۔ان کی تقسیم و استعمال درست نہیں۔وہ اتروا کر ریشمی سامان غنیمت میں واپس کی گئیں۔جس سے مجاہدین کو شکایت پیدا ہوئی۔حضرت ابو سعید خدری بھی اس مہم میں شامل تھے۔ان کی بیوی زینب بنت کعب سے مروی ہے کہ مجاہدین میں سے بعض نے حضرت علی کے خلاف اس واقعہ کا شکوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا تو آپ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! لا تفكُوا عَلِنَا ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَخْفَنَ فِي ذَاتِ اللَّهِ أَوْ فِي الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية خالد بن الوليد إلى بني عبد المدان بنجران، جزء ۲ صفحه (۱۲۸) (السيرة النبوية لابن هشام ، موافاة على فى قفوله من اليمن رسول الله فی الحج، جزء ۲ صفحه ۲۰۲)