صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 217
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۱۷ ۶۴ - کتاب المغازی الطَّوِيل حَدَّثَنَا بَكْرٌ أَنَّهُ ذَكَرَ لِابْنِ سے روایت کی کہ بکر ( بن عبد اللہ ) نے ہم سے عُمَرَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ بیان کیا کہ انہوں نے (حضرت عبد اللہ بن عمر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَكَ بِعُمْرَةٍ سے ذکر کیا کہ حضرت انس نے اُن سے بیان کیا وَحَجَّةٍ فَقَالَ أَهَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور ہم نے بھی آپ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ مَنْ لَّمْ يَكُنْ کے ساتھ اسی کا احرام باندھا۔جب ہم مکہ میں مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً وَكَانَ مَعَ آئے، آپ نے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی نہ ہو النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْي تو وہ حج کو عمرہ کر ڈالے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔اس اثناء میں حضرت الْيَمَنِ حَاجًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله على بن ابی طالب یمن سے حج کرنے کے لئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ أَهْلَلْتَ فَإِنَّ مَعَنَا آئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کس أَهْلَكَ قَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَ بِهِ النَّبِيُّ کا احرام باندھا ہے؟ کیونکہ ہمارے ساتھ تمہارے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمْسِكْ گھر والے بھی ہیں۔انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا۔احرام باندھا ہے۔آپ نے فرمایا: اسی پر ٹھہرے رہو۔ہمارے ساتھ بھی قربانی کا جانور ہے۔تشريح : بَعْفُ عَلِي بْنِ أَبِي طَالِبِ الله وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ: معنونه مهم بھی ملے جلے مقاصد کی غرض سے تھی جو بقول ابن سعد رمضان ۱۰ھ میں بھیجی گئی تھی۔تین صد سواروں پر ر مشتمل پہلا رسالہ تھا جو یمن کے اس علاقہ کی طرف روانہ کیا گیا جہاں قبیلہ مذحج کے خاندان آباد تھے۔حضرت علی اس مہم کے قائد تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: فَإِذَا نَزَلْتَ بِسَاحَتِهِمْ فَلَا تُقَاتِلَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلُوك جب ان کے علاقے میں پہنچو تو ان سے نہ لڑو تا وقتیکہ وہ تم سے لڑائی کریں۔لے باب کی روایت نمبر ۴۳۴۹ سے ظاہر ہے کہ حضرت خالد بن ولید پہلے بھیجے گئے تھے اور اس کے بعد ان کی جگہ حضرت علی اور روایت نمبر ۴۳۵۰ میں حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی کی شمولیت کا ذکر ہے۔ابن سعد کی محولہ بالا ل (الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازى رسول الله ﷺ ، سرية على بن أبي طالب إلى اليمن ، جزء ۲ صفحه ۱۲۸)