صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 214 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 214

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۱۴ ۶۴ - کتاب المغازی لِيَقْبِضَ الْحُمُسَ وَكُنْتُ أَبْغِضُ عَلِيًّا نے حضرت علی کو حضرت خالد کے پاس بھیجا کہ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْتُ لِخَالِدٍ أَلَا تَرَی وہ غنیمت کا پانچواں حصہ لائیں اور میں حضرت إِلَى هَذَا فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ على سے ناراض تھا اور انہوں نے وہاں غسل کیا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ میں نے حضرت خالد سے کہا: کیا تم انہیں نہیں لَهُ فَقَالَ يَا بُرَيْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا دیکھتے (کہ کیا کرتے ہیں؟) جب ہم نبی صلی اللہ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا تُبْغِضُهُ فَإِنَّ لَهُ عليه وسلم کے پاس آئے، میں نے آپ سے یہ ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: بُریدہ ! کیا تم علی سے ناراض فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ۔ہو ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔آپ نے فرمایا: اس رَضِيَ سے ناراض نہ ہو کیونکہ اُس کا اس خمس میں اس سے زیادہ حصہ ہے (جو اُس نے نہیں لیا۔) ٤٣٥١ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۴۳۵۱ قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ الْوَاحِدِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عبد الواحد (بن زیاد) نے عمارہ بن قعقاع بن شُبْرُمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي رُمہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ عبد الرحمن بن ابی نعم نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نُعْمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيْدٍ الْخُدْرِيَّ نے حضرت ابو سعید خدری سے سنا۔کہتے تھے کہ يَقُوْلُ بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کی طرف سے ایک سونے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ بِذْهَيْبَةٍ فِي کا چھوٹا سا ٹکڑا رنگے ہوئے چمڑے میں لپیٹ کر أَدِيْمٍ مَقْرُوْظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا بھیجا جو طبعی حالت میں تھا، کندن نہیں ہوا تھا۔حضرت ابوسعید کہتے تھے: آپ نے وہ ٹکڑا چار قَالَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ آدمیوں کے درمیان تقسیم کیا۔عیینہ بن بدر، اقرع عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ وَأَقْرَعَ بن حابس بن حابس ، زید خیل (بن مہلہل ) اور چوتھے علقمہ وَزَيْدِ الْخَيْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ ( بن علاقہ ) یا عامر بن طفیل تھے۔یہ دیکھ کر آپ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ کے صحابہ میں سے ایک شخص بولا: ان سے تو ہم اس