صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 213
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۱۳ ۶۴ - کتاب المغازی بَاب :٦١ بَعْثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور حضرت خالد بن ولید کو حجتہ الوداع سے پہلے یمن کی طرف بھیجنا ٤٣٤٩ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ۴۳۴۹ : احمد بن عثمان (بن حکیم) نے مجھ سے حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ شریح بن مسلمہ نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوْسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بنِ بن يوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے ہم سے أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔انہوں نے إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابو اسحاق سے روایت کی، (کہا: ) میں نے حضرت بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ براء رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ علیہ وسلم نے ہمیں خالد بن ولیڈ کے ساتھ یمن کی طرف بھیجا۔کہتے تھے: پھر اس کے بعد اُن کی ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا بَعْدَ ذَلِكَ مَكَانَهُ فَقَالَ جگہ حضرت علی کو بھیجا اور آپ نے فرمایا: خالد کے ساتھیوں سے کہنا کہ اُن میں سے جو تمہارے ساتھ پیچھے رہنا چاہے وہ پیچھے رہے اور جو چاہے مُرْ أَصْحَابَ خَالِدٍ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقْبِلْ فَكُنْتُ فِيمَنْ عَقَّبَ مَعَهُ قَالَ چلا آئے۔حضرت برا کہتے تھے: میں اُن لوگوں فَغَنِمْتُ أَوَاقِيَ ذَوَاتِ عَدَدٍ۔میں سے تھا جو حضرت علی کے ساتھ پیچھے رہے، کہتے تھے: میں نے کئی اوقیہ چاندی غنیمت میں حاصل کی۔٤٣٥٠ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۳۵۰ محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ روح بن عبادہ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن سوید بن منجوف بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن بُریدہ سے، بْن بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ عبد الله نے اپنے باپ (حضرت بریدہ بن حصیب) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم