صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 212 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 212

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۱۲ ۶۴ - کتاب المغازی تھی۔روایت نمبر ۴۳۴۱ - ۴۳۴۲ میں ایک شخص کی گردن زدنی کا واقعہ مذکور ہے جو مسلمان ہو کر مرتد ہو گیا تھا۔روایت نمبر ۴۳۴۴- ۴۳۴۵ میں ہے کہ وہ یہودی تھا۔اس تعلق میں مفصل بحث کتاب استتابة المرتدين والمعاندين و قتالھم میں آئے گی ، انشاء اللہ۔یادر ہے کہ اسلام میں مکمل مذہبی آزادی کا اعلان ہے۔اسلامی حکومت میں ہر شخص جو مذہب اختیار کرنا چاہے اختیار کر سکتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص مذہب تبدیل کرنے کے ساتھ اسلامی حکومت کے خلاف باغی لوگوں کے ساتھ مل کر باغیانہ روش اختیار کرے تو اُس پر گرفت ہو گی۔وگرنہ صرف تبدیلی مذہب کوئی جرم نہیں۔روایت نمبر ۴۳۴۴- ۴۳۴۵ کے آخر میں عقدی اور وہب کی متابعت کا ذکر کیا گیا ہے جو مرسل ہے اور وکیع و نفر و ابو داؤد کی روایت کا بھی جو موصول ہے۔روایت ابی عامر عبد الملک بن عمر و عقدی کے لئے دیکھئے کتاب الاحکام روایت نمبر ۷۲ اے۔روایت وہب بن جریر مسند اسحاق بن راہویہ میں موصولاً مروی ہے۔روایت وکیع کے لیے کتاب الجہاد، باب ۱۶۴، روایت نمبر ۳۰۳۸ دیکھئے۔نضر بن شمیل کی روایت کتاب الادب میں اور ابو داؤد طیالسی کی روایت مسند مروزی و نسائی میں۔یہ روایتیں شعبہ ہی سے موصولاً منقول ہیں۔اس تواتر سے معنعن روایت کا سقم دور کیا گیا ہے۔وکیع کی روایت کتاب الجہاد (روایت نمبر ۳۰۳۸) میں مختصر ہے لیکن یہ ابن ابی عاصم نے کتاب الاشربہ میں بسند ابو بکر بن ابی شیبہ مفصل روایت کی ہے۔اسی طرح مسند ابی بکر بن ابی شیبہ میں بھی بیان کی گئی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۷۹) (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه ۴) حضرت ابو موسیٰ اشعری غزوہ تبوک میں شامل ہوئے تھے جو رجب 9ھ میں ہوا۔اس لئے یمن کی طرف ان کی روانگی تبوک سے مراجعت پر ہوئی تھی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۷) غزوہ تبوک ماہ رجب ۹ھ میں حجتہ الوداع سے قبل ہوا تھا۔لیکن صحیح بخاری کے نسخوں میں یہ غزوہ حجتہ الوداع کے بعد رکھا گیا ہے جو نساخ ( کاتبوں) کی غلطی ہے۔مذکورہ بالا تاریخ سے متعلق سب کا اتفاق ہے اور روایت نمبر ۴۳۴۶ میں بھی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعر ٹی یمن سے آئے اور حجتہ الوداع میں شریک ہوئے اور باب ۶۰ کے عنوان میں بھی صراحت ہے کہ یمن کی طرف ان کی روانگی حجتہ الوداع سے قبل ہوئی تھی۔اگر غزوہ تبوک حجتہ الوداع کے بعد تسلیم کیا جائے تو تبوک میں ان کی شمولیت کیسے ہو سکتی ہے۔اسی طرح حجتہ الوداع کے لئے یمن سے واپسی والی بات بھی غلط ہو گی۔اس لئے امام ابن حجر" کے نزدیک یہ کتابت کی غلطی ہے ، نہ امام بخاری کی غلط نہی۔فتح الباری شرح کتاب المغازی، باب: غزوة تبوك، جزء ۸ صفحه ۱۳۸)