صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 211 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 211

۶۴ - کتاب المغازی صحیح البخاری جلد ۹ عنیا کہتے تھے۔حضرت معاذ کو اس کا نگران مقرر فرمایا اور دوسرا حصہ پست تھا، اس پر حضرت ابو موسیٰ اشعری مقرر ہوئے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۶) دونوں کو ہدایت ہوئی کہ علاقہ میں دورہ کرتے رہیں اور ایک دوسرے کے حالات سے مطلع رہیں اور یہ بھی ہدایت تھی کہ لوگوں سے نرمی برتیں اور ان پر سختی نہ کریں۔اس باب میں آٹھ روایتیں ہیں، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل ہدایات پر مشتمل ہیں: آسانی اور نرمی اختیار کرنا، سختی سے کام نہ لینا۔تمہارے حسن سلوک و انتظام سے لوگوں کو مسرت و بشاشت ہو، نفرت نہ ہو۔(روایت نمبر ۴۳۴۴-۴۳۴۵) مسند احمد بن حنبل بھی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاذ کو یمن کی طرف الوداع کرنے کے لئے نکلے تو وہ سوار تھے اور آپ پا پیادہ۔فرمایا: قَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى قَوْمٍ رَقِيْقَةٍ قُلُوْبُهُمْ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِ مَرَّتَيْنِ فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مِنْهُمْ مَنْ عَصا میں نے تمہیں ایسی قوم کی طرف بھیجا ہے جن کے دل نرم ہیں۔فرمانبرداروں کے ذریعہ نافرمانوں کا مقابلہ کرنا یعنی براہ راست اُن سے مقابلہ کرنے سے بچنا۔ایک دوسرے کی اعانت کرنا۔(روایت نمبر ۴۳۴۴ - ۴۳۴۵) تطاوعا سے مراد یہ ہے کہ تمہارے باہمی تعلقات خوشگوار رہیں۔وہاں اہل کتاب ہیں، دعوت اسلام میں حکمت و تدریج سے کام لینا۔عقیدہ توحید کی تلقین مقدم ہو اور پھر عام مسلمہ عقائد سے مخصوص عقائد و اعمال اسلام کی ترغیب دینا تا بارِ خاطر نہ ہو۔(روایت نمبر ۴۳۴۷) دولت مندوں سے زکوۃ حاصل کر کے وہاں کے محتاجوں کو دینا۔تحصیل زکوۃ کے متعلق فرمایا: فَايَّاكَ وَكَرَائِمَ آموالهند - (روایت نمبر ۴۳۴۷) خبر دار اُن کے چیدہ اموال سے بچنا۔عملہ تحصیل اس جہت سے بہت حریص اور بد نام ہے۔وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ ظلم سے بچنا اور یاد رہے کہ مظلوم کی دعا سے ظالم بچ نہیں سکتا۔اللہ کے حضور مقبول ہوتی ہے۔کوئی اسے روک نہیں سکتا۔(روایت نمبر ۴۳۴۷) چھٹی ہدایت کا تعلق شراب نوشی کی حرمت سے ہے۔شراب نوشی اتم الخبائث ہے۔اس ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں جو اور شہد کی شراب کا استعمال عام تھا۔اصلاح اخلاق کے لئے اس کی طرف کارکنوں کو خاص توجہ دلائی گئی ہے۔(روایت نمبر ۴۳۴۴-۴۳۲۵) امام بخاری نے مذکورہ بالا ہدایات کے تعلق میں لفظ طلوعت کی لغوی تشریح بلا وجہ نہیں کی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصولی ہدایت يَتَرَا وَلَا تُعَتِرَا وَبَشَّرَا وَلَا تُنَفِرَا وَتَطَاوَعَا ( روایت نمبر ۴۳۴۴-۴۳۴۵) کے پیش نظر اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصد ہے کہ ہدایت کا نفاذ جبر و اکراہ سے نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ان کی پابندی طوعاً مقصود (مسند احمد بن حنبل، مسند الأنصار ، حديث معاذ بن جبل، جزء ۵ صفحه ۲۳۵)