صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 210 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 210

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۱۰ ۶۴ - کتاب المغازی ނ نے اُن سے کہا تھا کہ اس کا توڑ نا نا ممکن ہے۔جب اُس نے دیکھا کہ وہ ٹوٹ گیا ہے تو حضرت عمرو بن العاص نے اُس سے پوچھا کہ کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا: اسلمت لله له بتوں کی خدائی کا تماشاد یکھ لیا، اس لئے اسلام قبول ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی کا جو مشاہدہ عربوں کو کرایا گیا، اس سے صنم پرستی سے اُن کے دل بیزار ہو چکے تھے۔صرف ایک خیالی ڈر اور وہم تھا جس کا بت شکنی سے قلع قمع کیا گیا۔اسلام مذہب کی آزادی کا حامی ہے اور کسی کے دین میں دخل دینا یا زبر دستی سے اپنا عقیدہ منوانے کے خلاف ہے اور حجت و براہین کا قائل ہے۔پندرہ میں سال کی متواتر جدوجہد سے ارض حجاز و عرب کی کایا پلٹ چکی تھی اور حجت، براہین اور الہی تجلیات کے مشاہدات سے ذہن و قلب اسلام کو خود قبول کرنے کے لئے مستعد تھے۔اس لئے مجاہدین کے ہاتھوں سے جو بت توڑے گئے اور مندر مسمار کر دیئے گئے ، اس کی نوعیت بالکل اور ہے۔یہ لا اکراہ فی الدین سے بالکل مغایر نہیں۔عربوں کی شکستہ ذہنی اور إِكْرَاهَ مایوسی نے بت شکنی اور مذہب اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دے رکھی تھی۔سورۃ الانبیاء میں حضرت ابراہیم السلام کی بت شکنی کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَجَعَلَهُمْ جُذَذَا (الأنبياء : ۵۹) کہ حضرت ابراہیم نے قوم کے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔اس آیت سے اس بت شکنی کی طرف اشارہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے تطہیر بیت اللہ کے تعلق میں ہوئی اور اس کے لئے دلوں کی زمین اور ذہنوں کو مستعد کر کے ساز گار فضا پیدا کی گئی۔جس میں عربوں کے نفوس سے اللَّهُمَّ لبيك لا شريك لك لبيك کی صدا گونج اُٹھی۔جبر و اکراہ کا اس صدائے بازگشت سے دور کا واسطہ نہ تھا۔مذکورہ بالا آیت میں فرماتا ہے: فَرجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّلِمُونَ ) (الانبیاء : ۶۵) سو انہوں نے اپنے نفسوں پر غور کیا تو کہنے لگے: درحقیقت تم ہی ظالم ہو۔کیونکہ خالق کا جو حق تھا وہ اس کی مخلوق کو دے دیا گیا۔یہ وہ ذہنی قلب و ماہیت کا پس منظر تھا، جس میں انبیاء بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں کے مطابق ارضِ حجاز میں صنم پرستی کا خاتمہ ہوا۔دوسری قسم سرایا( مہمات) کی وہ ہے جس کا ذکر باب ۵۷ کی تشریح میں ابھی کیا گیا ہے اور تیسری قسم کا ذکر باب ۵۸ میں ہے۔یہ ہمیں اکثر ۱۰۰۹ ہجری میں مرتب ہوئیں اور ان ملاوہ تعلیمی وفود کا سلسلہ بھی ان کے پہلو بہ پہلو جاری ہوا جو اسلام میں داخل ہونے والے قبائل کی دینی تعلیم و تربیت کی غرض سے تھا۔۸ھ سے ۱۰ھ کا مختصر زمانہ انتہائی مشغولیت اور اہمیت رکھنے والا زمانہ ہے۔اس دوران بعض تادیبی کارروائیاں بھی ہوئیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔باب ۶۰ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بطور عامل بھیجے جانے کا ذکر ہے۔یہ واقعہ حجتہ الوداع سے پہلے کا ہے۔اس باب کی روایت نمبر ۴۳۴۶ میں ذکر ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری یمن سے آئے اور مکہ مکرمہ میں آپ سے ملے۔کتب مغازی میں ہے کہ وہ ربیع الآخر 9 ھ میں روانہ کئے گئے تھے۔یمن کے دو ضلعے تھے۔ضلع عربی میں مخلاف یا رستاق کہلاتا تھا۔یمن کا وہ علاقہ جو عدن سے ملحق تھا نسبتا بلندی پر تھا، جسے الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ ، سرية عمر و بن العاص الى سواع، جزء ۲ صفحه ۱۱۱)