صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 15
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۵ ۶۴ - کتاب المغازی أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ جائے گا۔جب لوگ صبح اُٹھے ، رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ان میں سے ہر شخص یہی امید رکھتا تھا کہ جھنڈا اُسے دیا جائے گا۔آپ نے يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ پوچھا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ آپ سے کہا فَقِيْلَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ گیا: یا رسول اللہ ! وہ آشوب چشم سے بیمار ہیں۔قَالَ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ حضرت سہل کہتے تھے: آپ نے ان کو بلوا بھیجا۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وہ آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَّمْ آنکھوں میں لعاب لگایا اور ان کے لئے دعا کی۔وہ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ ایسے تندرست ہو گئے کہ گویا انہیں درد تھا ہی عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى نہیں۔آپ نے ان کو علم دیا۔حضرت علی کہنے لگے: یا رسول اللہ ! کیا میں ان سے اس وقت تک جنگ يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذُ عَلَى رِسْلِكَ کرتا ہوں کہ وہ ہمارے جیسے ہو جائیں؟ آپ نے حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى فرمايا: آہستگی سے سنبھل کر چلے جائیں یہاں تک الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ کہ جب ان کے آنگن میں ڈیرہ لگائیں تو پھر ان کو مِنْ حَقِ اللهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اسلام کی دعوت دیں اور انہیں بتائیں اللہ کے جو اللهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَّكَ مِنْ حقوق ان پر واجب ہیں۔اللہ کی قسم! آپؐ کے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی راہ راست پر لے آئے تو أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ۔أطرافه: ۲۹۴۲ ، ۳۰۰۹ ، ۳۷۰۱۔یہ امر آپ کے لئے اس سے بہتر ہے کہ آپ کو بہت سے) سرخ اونٹ مل جائیں۔٤٢١١: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ ۴۲۱۱: عبد الغفار بن داؤد نے ہم سے بیان کیا کہ دَاوُدَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يعقوب بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا۔اور احمد بن ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا عیسی نے بھی مجھے بتایا کہ (عبد اللہ ) بن وہب نے ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ ہم سے بیان کیا، کہا: یعقوب بن عبد الرحمن زہری بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَمْرٍو نے مجھے بتایا۔زہری نے مطلب ( بن عبد اللہ ) کے