صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 203
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۰۳ ۶۴ - کتاب المغازی وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ وَكَانَ كُلُّ اپنے علاقہ میں چلا گیا اور ان میں سے ہر ایک جب وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ اپنے علاقہ میں دورہ کرتا اور وہ اپنے ساتھی کے قریب آ جاتا تو اس سے ملاقات کرتا، اس کے لئے سلامتی کی أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا دعا کرتا۔ایک بار حضرت معاذ اپنے علاقہ میں دورہ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَارَ مُعَاةٌ فِي أَرْضِهِ کرتے ہوئے اپنے ساتھی حضرت ابو موسیٰ کے قریب قَرِيْبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى فَجَاءَ پہنچ گئے اور اپنی خچر پر سوار ہو کر حضرت ابو موسیٰ کے يَسِيْرُ عَلَى بَعْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ پاس گئے۔کیا دیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں اور اُن کے پاس لوگ جمع ہیں اور ایک شخص اُن کے پاس ہے جس کے وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ دونوں ہاتھ اُس کی گردن سے جکڑے ہوئے ہیں۔النَّاسُ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ حضرت معاذ نے اُن سے کہا: عبد اللہ بن قیس ! یہ کون يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذِّ يَا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ شخص ہے جو اسلام قبول کرنے عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَيُّمَ هَذَا قَالَ هَذَا کے بعد کا فر ہو گیا۔حضرت معاذ نے کہا: میں اتروں گا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ قَالَ لَا أَنْزِلُ نہیں جب تک کہ وہ قتل نہ کر دیا جائے۔حضرت ابو موسی نے کہا: اسی لئے تو اسے لایا گیا ہے تم انتر و۔انہوں نے حَتَّى يُقْتَلَ قَالَ إِنَّمَا جِيْءَ بِهِ لِذَلِكَ کہا: میں ہرگز نہیں اتروں گا جب تک کہ اس کو قتل نہ فَانْزِلْ قَالَ مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ فَأَمَرَ کر دیا جائے۔چنانچہ حضرت ابو موسی نے اس کے متعلق بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللهِ حکم دیا اور وہ قتل کر دیا گیا۔پھر حضرت معاذ اترے اور كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا کہنے لگے: عبد اللہ ! تم قرآن کس طرح پڑھا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا: تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتارہتا ہوں۔قَالَ فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ قَالَ پھر حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا: اور تم کس طرح پڑھتے أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَأَقُوْمُ وَقَدْ قَضَيْتُ ہو؟ معاذ! انہوں نے کہا: میں رات کے پہلے حصہ میں جُزْنِي مِنَ النَّوْمِ فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ الله تو سو جاتا ہوں اور پھر اُٹھتا ہوں اور جو میرے نصیب فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ میں سونا ہوتا ہے سو چکتا ہوں۔پھر جو اللہ نے میرے لئے مقرر کیا ہوتا ہے پڑھتا ہوں۔میں اپنے سونے میں بھی ثواب کی نیت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے اٹھنے قَوْمَتِي۔اطراف الحديث ٤٣٤١ : ٢٢٦١ ، ٠٣٨ اطراف الحديث ٤٣٤٢ : ٤٣٤٥۔میں بھی ثواب کی نیت رکھتا ہوں۔-۷۱۷۲ ،٤٣٤٣، ٤٣٤٤، ٦١٢٤ ، ٦٩٢٣ ، ٧١٤٩، ٧١٥٦ ، ٧١٥٧