صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 202
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۰۲ ۶۴ - کتاب المغازی کے الفاظ سے توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ مہم اور ہے۔ امام ابن حجر کے نزدیک اس فقرے سے امام احمد بن حنبل اور ابن ماجہ کی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو ابن خزیمہ ، ابن حبان اور حاکم کے نزدیک صحیح روایات میں سے ہے اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو اس مہم میں شریک تھے اور یہ تھے اور یہ روایت ابن سعد کے بیان سے متفق ہے اور ابن اسحاق کی روایت کے خلاف۔ امام ابن حجر کے نزدیک عنوان باب میں مہم کو دو شخصوں کی طرف منسوب کرنے اور جملہ وَيُقَالُ اِنَّهَا سَرِيَّةُ الْأَنْصَارِي سے امام بخاری کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ کتب مغازی میں جس مہم کو ایک بتایا گیا ہے وہ دراصل دو علیحدہ مہمیں ہیں اور الگ الگ وقت میں ہوئیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۳) صحیح بخاری کی روایت نمبر ۴۳۴۰ سے بھی غرض واضح نہیں اور نہ امیر کی وجہ ناراضگیا ہی۔ اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ محض دل لگی سے آگ میں کودنے کے لئے نہیں کہا گیا بلکہ بعض ساتھیوں کی کسی حکم عدولی کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار تھا اور اس کی تنبیہ مقصود تھی۔ آگ میں کسی کے کودنے کی نوبت نہیں آئی۔ وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يُمْسِكُ بَعْضًا سے ظاہر ہے کہ مجاہدین میں ایسے لوگ موجود تھے جو خلافِ شریعت امور میں اطاعت ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ آگ میں کود کر ہلاک ہونا خود کشی ہی تھی جو از روئے شریعت حرام ہے۔ باب ٦٠ بَعْثُ أَبِي مُوسَى وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ حجۃ الوداع سے پہلے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ) اور حضرت معاذ بن جبل) کو یمن کی طرف بھیجنا ٤٣٤١ - ٤٣٤٢ : حَدَّثَنَا مُوسَى ۴۳۴۱-۴۳۴۲ : موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ کہ ابو عوانہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الملک ( بن عمیر ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو بردہ سے روایت کی۔ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللَّهِ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ ہم نے حضرت ابو موسیٰ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى (اشعری) اور حضرت معاذ بن جبل کو یمن کی طرف وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ وَبَعَثَ بھیجا۔ ابو بردہ کہتے تھے: اور آپؐ نے اُن میں سے ہر كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلَافٍ قَالَ ایک کو ایک ایک ضلع پر مقرر فرمایا اور یمن کے دو ضلعے تھے۔ پھر آپ نے ان دونوں سے فرمایا: (لوگوں پر ) وَالْيَمَنُ مِخْلَافَانِ ثُمَّ قَالَ يَسِّرَا وَلَا آسانی کرنا اور انہیں مشکل میں نہ ڈالنا اور ان کو خوش تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا فَانْطَلَقَ كُلُّ رکھنا اور نفرت نہ دلانا۔ چنانچہ ان میں سے ہر ایک اپنے ا (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند ابي سعيد الخدری، جزء ۳ صفحه ۶۷) (سنن ابن ماجه، کتاب الجهاد، باب لا طاعة في معصية الله )