صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 201 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 201

۶۴ - کتاب المغازی صحیح البخاری جلد ۹ باب ۵۸، ۵۹ کی روایتیں سبق آموز ہیں اور بلحاظ درس عبرت تقریباً ایک ہی نوعیت کی ہیں۔سابقہ باب میں جو واقعہ ہوا ہے، اس سے صحابہ کرام پر امیر کی عدم اطاعت کا الزام عائد ہوتا ہے۔اس باب سے اس کا ازالہ کیا گیا ہے۔ابن سعد اور ابن اسحاق دونوں نے مذکورہ بالا واقعہ کا ذکر کیا ہے۔طبقات ابن سعد میں صراحت ہے کہ یہ مہم حبشہ کے ایک علاقہ کی طرف ربیع الثانی 9ھ میں بھیجی گئی تھی۔اس مہم میں حضرت علقمہ بن مجزر کے ساتھ تین صد مجاہد بھیجے گئے تھے۔ابن اسحاق نے حضرت ابو سعید خدری کی ایک روایت نقل کی ہے کہ وہ بھی اس مہم میں شریک تھے۔ان کا بیان ہے کہ جب مہم کی غرض ختم ہوئی اور جس قبیلہ کی طرف گئے تھے وہ بھاگ گیا تو مجاہدین میں سے بعض نے اپنے گھروں کو جلدی واپس جانا چاہا تو انہیں اجازت دی گئی اور حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمیں ان کے امیر مقرر کئے گئے۔راستے میں مذکورہ بالا واقعہ آیا۔ہے ان مؤلفین مغازی کی روایتوں میں حضرت عبد اللہ بن حذافہ سبھی کی کسی ناراضگی کا ذکر نہیں۔صرف ان کی مذاقیہ طبیعت اور دل لگی کا ذکر ہے۔صحیح بخاری کی مذکورہ بالا روایت میں ان کی ناراضگی کا ذکر ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں بھی یہ الفاظ ہیں: فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ۔لوگوں نے کسی وجہ سے انہیں ناراض کر دیا اور مندرجہ بالا روایت میں مہم کی غرض و غایت و مقام کا بھی ذکر نہیں اور امیر کا نام بھی نہیں۔روایت نمبر ۴۳۴۰ ضروری تفصیل سے خالی ہے۔ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ واقعہ ذی قرد میں وقاص بن مجزز مدلجی قتل کر دیئے گئے تھے۔ان کا انتقام لینے کی غرض سے علقمہ بن مجزز کی درخواست پر وہ قبیلہ عیینہ بن حصن سے وقاص بن مجزز کا انتقام لینے کے لئے بھیجے گئے تھے۔لیکن ابن سعد کی روایت میں یہ ذکر نہیں بلکہ حبشہ کی طرف سے شکایت ملی تو ان کی امداد کے لئے یہ مہم بھیجی گئی تھی۔دونوں کے بیان میں اختلاف ہے اور مقصد واضح نہیں۔راویوں نے جس قدر کسی نے سنا اتنا ہی بیان کیا، یہ امر بھی مسلمان راویان ثقات کی دیانتداری کی دلیل ہے۔ذی قرد کے جس واقعہ میں وقاص بن مجزز اور محرز بن نضلہ شہید ہوئے تھے وہ ربیع الاول ۶ھ میں واقعہ ہوا تھا اور غزوہ غابہ کے نام سے بھی مشہور ہے ہے اور حبشہ والی مہم کا تعلق نویں ہجری سے ہے۔عنوانِ باب میں اس مہم کو پہلے حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی کے نام سے موسوم کیا ہے جو بدری صحابی تھے اور مہاجر تھے نہ کہ انصاری۔(عمدۃ القاری جزء۱۷ صفحہ ۳۱۴) اس لئے عنوانِ باب میں الفاظ إِثْهَا سَرِيَّةُ الْأَنْصَارِي الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ ، سرية علقمة بن مجزز المدلجی، جزء۲ صفحه ۱۲۳) (السيرة النبوية لابن هشام ، سرية علقمة بن مجزز ، دعابة ابن حذافة مع جيشه، جزء۲ صفحه ۶۴۰) (صحیح مسلم، كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الامراء فى غير معصية وتحريمها في المعصية) (السيرة النبوية لابن هشام، سرية علقمة بن مجزز ، سبب ارسال علقمة، جزء ۲ صفحه ۶۴۰،۶۳۹) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة ذی قرد، جزء ۲ صفحه (۲۸۳) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول اللہ ﷺ ، غزوة رسول الله ﷺ الغابة، جزء ۲ صفحه ۶۱ ۶۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازى رسول الله ، سرية علقمة بن مجزز المدلجی، جزء۲ صفحه ۱۲۳)