صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 201
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۰۱ ۶۴ - کتاب المغازی باب ۵۸، ۵۹ کی روایتیں سبق آموز ہیں اور بلحاظ درس عبرت تقریباً ایک ہی نوعیت کی ہیں۔ سابقہ باب میں جو واقعہ ہوا ہے، اس سے صحابہ کرام پر امیر کی عدم اطاعت کا الزام عائد ہوتا ہے۔ اس باب سے اس کا ازالہ کیا گیا ہے۔ ابن سعد اور ابن اسحاق دونوں نے مذکورہ بالا واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ طبقات ابن سعد میں صراحت ہے کہ یہ مہم حبشہ کے ایک علاقہ کی طرف ربیع الثانی ۹ھ میں بھیجی گئی تھی۔ اس مہم میں حضرت علقمہ بن مجزز کے ساتھ تین صد مجاہد بھیجے گئے تھے۔ ابن اسحاق نے حضرت ابو سعید خدری کی ایک روایت نقل کی ہے کہ وہ بھی اس مہم میں شریک تھے۔ ان کا بیان ہے کہ جب مہم کی غرض ختم ہوئی اور جس قبیلہ کی طرف گئے تھے وہ بھاگ گیا تو مجاہدین میں سے بعض نے اپنے گھروں کو جلدی واپس جانا چاہا تو انہیں اجازت دی گئی اور حضرت عبد اللہ بن حذافہ سبھی ان کے امیر مقرر کئے گئے۔ راستے میں مذکورہ بالا واقعہ آیا۔ ہے ان مؤلفین مغازی کی روایتوں میں حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی کی کسی ناراضگی کا ذکر نہیں۔ صرف ان کی مذاقیہ طبیعت اور دل لگی کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری کی مذکورہ بالا روایت میں ان کی ناراضگی کا ذکر ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں بھی یہ الفاظ ہیں: فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ ۔ لوگوں نے کسی وجہ سے انہیں ناراض کر دیا اور مندرجہ بالا روایت میں مہم کی غرض وغایت و مقام کا بھی ذکر نہیں اور امیر کا نام بھی نہیں۔ روایت نمبر ۴۳۴۰ ضروری تفصیل سے خالی ہے۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ واقعہ ذی قرد میں وقاص بن مجزز مدلجی قتل کر دیئے گئے تھے۔ ان کا انتقام لینے کی غرض سے علقمہ بن مجزز کی درخواست پر وہ قبیلہ عیینہ بن حصن سے وقاص بن مجزز کا انتقام لینے کے لئے بھیجے گئے تھے ۔ " لیکن ابن سعد کی روایت میں یہ ذکر نہیں بلکہ حبشہ کی طرف سے شکایت ملی تو ان کی امداد کے لئے یہ مہم بھیجی گئی تھی۔ دونوں کے بیان میں اختلاف ہے اور مقصد واضح نہیں۔ راویوں نے جس قدر کسی نے سنا اتنا ہی بیان کیا، یہ امر بھی مسلمان راویان ثقات کی دیانتداری کی دلیل ہے۔ ذی قرد کے جس واقعہ میں وقاص بن مجزز اور محرز بن نضلہ شہید ہوئے تھے وہ ربیع الاول ۶ھ میں واقعہ ہوا تھا اور غزوۂ غابہ کے نام سے بھی مشہور ہے ہے اور حبشہ والی مہم کا تعلق نویں ہجری سے ہے۔ عنوانِ باب میں اس مہم کو پہلے حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی کے نام سے موسوم کیا ہے جو بدری صحابی تھے اور مہاجر تھے نہ کہ انصاری۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۷ صفحہ ۳۱۴) اس لئے عنوانِ باب میں الفاظ إِنَّهَا سَرِيَّةُ الْأَنْصَارِي الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ ، سرية علقمة بن مجزز المدلجی، جزء ۲ صفحہ ۱۲۳) (السيرة النبوية لابن هشام ، سرية علقمة بن مجزز ، دعابة ابن حذافة مع جيشه، جزء ۲ صفحہ ۶۴۰) (صحیح مسلم، كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الامراء فى غير معصية وتحريمها في المعصية) السيرة النبوية لابن هشام ، سرية علقمة بن مجزز، سبب ارسال علقمة، جزء ۲ صفحه ۶۳۹، ۶۴۰) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة ذی قرد، جزء ۲ صفحه ۲۸۳) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ ، غزوة رسول الله ﷺ الغابة، جزء ۲ صفحه ۶۱، ۶۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ ، سرية علقمة بن مجزز المدلجی، جزء ۲ صفحه ۱۲۳)