صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 200
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۰۰ ۶۴ - کتاب المغازی سَرِيَّةً فَاسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فوج بھیجا اور انصار میں سے ایک شخص کو سردار وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيْعُوْهُ فَغَضِبَ فَقَالَ مقرر کیا اور آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ اس کی أَلَيْسَ أَمَرَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فرمانبرداری کریں۔ایک دفعہ وہ (انصاری امیر ) وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيْعُوْنِي قَالُوْا بَلَى قَالَ ناراض ہوا اور کہنے لگا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو حکم نہیں دیا کہ تم نے میری فرمانبرداری کرنی فَاجْمَعُوْا لِي حَطَبًا فَجَمَعُوْا فَقَالَ ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، بے شک دیا ہے۔أَوْقِدُوْا نَارًا فَأَوْقَدُوْهَا فَقَالَ ادْخُلُوهَا تب اس نے کہا: میرے لئے جلانے کی لکڑیاں فَهَمُّوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يُمْسِكُ بَعْضًا اکٹھی کرو۔انہوں نے اکٹھی کیں۔پھر اس نے وَيَقُوْلُوْنَ فَرَرْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ کہا: آگ جلا ؤ اور انہوں نے آگ جلائی۔پھر کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ فَمَا زَالُوْا حَتَّى اس میں داخل ہو جاؤ۔انہوں نے ارادہ کیا مگر وہ حَمَدَتِ النَّارُ فَسَكَنَ غَضَبُهُ فَبَلَغَ ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے: ہم النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ آگ سے بھاگ کر نبی صلی المی کمر کے پاس آئے تھے دَخَلُوْهَا مَا حَرَجُوْا مِنْهَا إِلَى يَوْمِ کہ قیامت کے دن آگ سے بچیں۔خیر وہ یہی کہتے رہے یہاں تک کہ آگ بجھ گئی اور انصاری الْقِيَامَةِ وَالطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ۔اطرافه: ٧١٤٥، ٧٢٥٧۔امیر کا غصہ بھی فرو ہو گیا۔یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔آپ نے فرمایا: اگر اس میں داخل ہوتے تو قیامت تک نہ نکلتے؛ اور (فرمایا:) اطاعت تو معروف بات میں ہوتی ہے۔تشريح : سَرِيَّةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ الشَّهْهِيَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ مُجَزِ الْمُنجي: کتب مغازی میں مندرجہ بالا مهم علقمہ بن مجزز مدلجی کے نام سے مذکور ہے۔انہوں نے اپنی فوج کے ایک حصہ کو کوٹنے کی اجازت دی اور حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی کو اس کا امیر مقرر کیا۔ان میں مذاق کی عادت تھی۔راستہ میں بطور دل لگی یا آزمائش اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں تمہارا امیر ہوں اور امیر کی اطاعت فرض ہے اور ان سے آگ میں کو دنے کے لئے کہا۔بعض تیار ہو گئے تو انہیں ساتھیوں نے روک دیا۔جب رسول اللہ صلی الی نام سے اس واقعہ کا ذکر ہوا تو آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا: اطاعت امر معروف میں ہوتی ہے۔معصیت میں اطاعت نہیں ہوتی۔(السيرة النبوية لابن هشام، سرية علقمة بن مجزز ، دعابة ابن حذافة مع جيشه، جزء۲ صفحه ۶۴۰)